35640- عن عمرو بن العاص أن رسول الله صلى الله عليه وسلم بعثه إلى دار السلاسل فسأله أصحابه أن يأذن لهم أن يوقدوا نارا ليلا فمنعهم، فكلموا أبا بكر أن يكلمه في ذلك، فقال: قد أرسلوا إلي لا يوقد أحد منهم نارا إلا ألقيته فيها، فلقوا العدو فهزمهم، فأرادوا أن يتبعوهم فمنعهم، فلما انصرف ذلك الجيش للنبي صلى الله عليه وسلم شكوه إليه، فقال: يا رسول الله! إني كرهت أن آذن لهم أن يوقدوا نارا فيرى عدوهم قلتهم، وكرهت أن يتبعوهم فيكون لهم مدد فيعطفوا عليهم، قال: فأحمد رسول الله صلى الله عليه وسلم أمره، قال: فقال: يا رسول الله من أحب الناس إليك؟ قال: "لم"؟ قال: "لأحب من تحب"، قال: عائشة، قال: من الرجال؟ قال: "أبو بكر". "ع، كر".
35640 ۔۔۔ عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو دارلسلاسل بھیجا تو لشکر کے شرکاء نے آگ جلانے کی اجازت مانگی رات کے وقت ان کو منع کردیا انھوں نے ابوبکر (رض) سے بات کی کر عمروبن عاص سے اس سلسلہ میں بات کریں تو انھوں نے فرمایا جی عمرو بن عاص نے پیغام بھیجا ہے کہ لشکر میں سے جو بھی رات کے وقت آگ جلانے گا اس کو آگ میں ڈالا یا جائے گا پھر دشمن سے مقابلہ ہوا اس میں دشمن کو شکست ہوئی مجاہدین دشمن کا تعاقب کرنا چہا تومنع کردیا جب لشکر واپس آیا تو انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شکایت کی تو عمروبن عاص نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے آگ جلانے کی اجازت میں اس لیے تامل ہوا کہ کہیں ایسانہ ہو کہ یہاں آگ جلائیں اور دشمن کو ہماری قلت تعداد کا علم ہوجائے اور تعاقب سے اس لیے روکائیں ایسانہ ہو یہ تعاقب کرتے ہوئے آگے بڑھ ان کے تاک میں لگے ہوئے لوگ سمجھے سے حملہ اور ہوجائیں فرمایا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رویاتوں ان کی تعرین کی پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا لوگوں میں آپ کو محبوب کون ہے ؟ پوجھاکیوں پوچھئے ہو بتایا تاکہ جس سے آپ محبت فرماتے ہیں میں بھی محبت کروں فرمایا عائشہ (رض) پوچھا مردوں میں کون ؟ فرمایا ابوبکر (رض)۔ (ابویعلی ابن عسارکر)