hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 35655

.

كنز العمال

35655
Kanz al-Ummal
35646- عن ابن عباس قال: قال أبي: تدرون لم سمي أبو بكر الصديق "عتيقا" قلت لعتق وجهه أو لعتق نسبه، قال: ليس كما تظن، كانت أمه في الجاهلية إذا ولد لها الولد لم يعش، فلما ولد أبو بكر جاءت به إلى الكعبة وقالت: يا إلهي العتيق يا لا إله إلا أنت! هبه لي من الموت، قال: فخرج كف من ذهب لا معصم لها وإذا بقائل يقول: فزت بحمل الولد العتيق ... يعرف في التوراة بالصديق قد وهبه الله من الموت وجعله وزير خير أهل الأرض، فلن يفترقا حيين ولن يفترقا ميتين ولن يفترقا غدا عند الله تعالى. "أبو علي الحسن بن أحمد البناء في مشيخته وابن النجار، وسنده جيد".
35646 ۔۔۔ ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ میرے والد نے کہا تم جانتے ہوئے ابوبکر (رض) کو عتیق کیوں کہا جاتا ہے ان کی ذاتی شرافت کی بناء پر فرمایا نہیں بلکہ جاہلیت کے زمانہ میں جب ان کے ہاں بچہ پیدا ہوتاوہ زندہ نہیں بچنا اس لیے جب ابوبکر (رض) پیدا ہوا تو ان کو کعبہ کے پاس لے کر آئی اور دعا کی یا الھی التعیق لاالہ الا انت ھیہ لی من الموت بتایا اس وقت سونے کی ایک ہتھیلی ظاہر جس پر کنگن نہیں تھے اس وقت ایک قائل کہہ رہا تھا۔تو ولد عتیق کے حمل سے کامیاب ہے جوتوراة میں صدیق کے نام سے معروف ہے اللہ تعالیٰ اس کو (بچن میں) موت سے بچایا اور ان کو زمین کے شب سے بہتر شخص کا وزیر بنایا دونوں نہ زندگی میں جداہوں گے نہ موت کے بعدنہ کل قیامت کو اللہ کے سامنے جداہوں گے۔ (ابوعلی حسن بن احمدالبناء فی مشیختہ وابن نجار وسندہ جید)