35658- "مسند عبد الله بن عمر" بينا النبي صلى الله عليه وسلم جالس وعنده أبو بكر الصديق عليه عباءة قد خلها على صدره بخلال إذ نزل عليه جبريل فأقرأه من الله السلام وقال له: يا رسول الله! مالي أرى أبا بكر عليه عباءة قد خلها على صدره بخلال! فقال: " يا جبريل؟ أنفق ماله علي قبل الفتح"، قال: فأقرئه من الله السلام وقل له: يقول لك ربك: أراض أنت عني في فقرك أم ساخط؟ فبكى أبو بكر وقال: على ربي أغضب! أنا عن ربي راض! أنا عن ربي راض. "أبو نعيم في فضائل الصحابة".
35658 ۔۔۔ (مسند عبداللہ بن عمر (رض)) اس دوران کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھے ہوئے تھے ان کے پاس ابوبکر صدیق (رض) بھی تھے ان پر ایک عباء تھا جس کے دونوں اطراف کو لکڑی سے جوڑا گیا اس وقت جبرائیل (علیہ السلام) ئے ار ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلام کہا اور پوچھا یا رسول اللہ کیا وجہ ہے کہ ابوبکر (رض) پر عباء ہے جس کو سینہ لکڑی سے جوڑا گیا فرمایا اے جبرائیل انھوں نے اپنا مال مجھ پر خرچ کیا فتح مکہ سے پہلے تو کہا ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلام پہنچا دو اور کہو کہ رب تعالیٰ پوچھ رہا ہے کہ اس فقر کی حالت میں مجھ سے راضی ہیں یا ناراض تو ابوبکر (رض) روپڑے اور کہا کیا میں اپنے رب پر ناراض ہوں گا میں اپنے رب سے راضی ہوں میں اپنے رب سے راضی ہوں۔ (ابونعیم فی فضائل الصحابہ)