35660- عن إسحاق بن طلحة قال: دخلت على أم المؤمنين عائشة وعندها عائشة بنت طلحة وهي تقول لأمها أم كلثوم بنت أبي بكر: أنا خير منك وأبي خير من أبيك، فجعلت أمها تسبها فقالت عائشة: ألا أقضي بينكما؟ قالت: بلى! قالت: فإن أبا بكر دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال له يا أبا بكر! أنت عتيق الله من النار، فمن يومئذ سمي "عتيقا"، ودخل طلحة بن عبيد الله فقال: أنت يا طلحة ممن قضى نحبه. "ابن منده، كر".
35660 ۔۔۔ اسحاق بن طلحہ سے روایت ہے کہ میں ام المومنین عائشہ (رض) کے پاس گیا ان کے پاس عائشہ بنت طلحہ بھی تھیں وہ اپنی ماں ام کلثوم بنت ابی بکر (رض) سے کہہ رہی تھی اس میں تجھ سے بہتر ہوں اور میرے باپ تیرے باپ سے بہتر ہیں ماں اس کو ڈاٹنے لگی تو عائشہ (رض) نے کہا کیا میں تم دونوں کے درمیان فیصلہ کروں ؟ انھوں نے کہا ہاں ابوبکر (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : انت عتیق اللہ من النار یعنی تم اللہ کی طرف سے آگ سے آزاد ہو اسی دن سے ان کا نام عتیق ہوگیا اور طلحہ (رض) داخل ہوئے تو آپ نے فرمایا تم اے طلحہ ان لوگوں میں سے ہو جنہوں نے شہادت کا مرتبہ حاصل کیا۔ (ابن مندہ ابن عساکر)