35666- عن الحسن أن أبا بكر أتى النبي صلى الله عليه وسلم بصدقة فأخذها فقال: يا رسول الله! هذه صدقتي ولله عندي معاد، وجاء عمر بصدقته فأظهرها فقال: يا رسول الله! هذه صدقتي ولي عند الله معاد، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " يا عمر! وترت قوسك بغير وتر، ما بين صدقتيكما كما بين كلمتيكما". "حل قال ابن كثير: إسناده جيد ويعد من المرسلات".
35666 ۔۔۔ حسن سے روایت ہے کہ ابوبکر (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں صدقہ لائے آپ نے قبول کرلیا اور کہا یارسول اللہ میرا صدقہ ہے اللہ کے لیے دوبارہ صدقہ کرنا بھی میرے اوپر لازم ہے اس کے بعد عمر (رض) نے صدقہ لایا اس کو ظاہر کیا اور کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرا صدقہ ہے اور میرے لیے اللہ تعالیٰ کے پاس اعادہ ہے اے عمرتم نے اپنے کمان میں تانت لگایا ہے بےجوڑتم دونوں کے صدقہ میں وہی فرق ہے جو تم دونوں کے کلمہ میں ہے (حلیة الاولیاء ابن کثیر نے کہا اس کی سندجید ہے اور اس کو مرسلات میں سے شمار کیا گیا ہے)