hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 35677

.

كنز العمال

35677
Kanz al-Ummal
35668- عن عبد الرحمن بن أبي بكر الصديق قال: صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الصبح ثم أقبل على أصحابه بوجهه قال: "من أصبح منكم اليوم صائما"؟ قال عمر: يا رسول الله! لم أحدث نفسي بالصوم البارحة فأصبحت مفطرا: فقال أبو بكر: لكن حدثت نفسي بالصوم فأصبحت صائما، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "هل منكم اليوم أحد عاد مريضا"؟ قال عمر: يا رسول الله! لم نبرح فكيف نعود المريض! فقال أبو بكر: بلغني أن أخي عبد الرحمن بن عوف شاك فجعلت طريقي عليه لأنظر كيف أصبح، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "هل منكم أحد أطعم اليوم مسكينا"؟ فقال عمر: يا رسول الله؟ صلينا ثم لم نبرح، فقال أبو بكر: دخلت المسجد فإذا سائل فوجدت كسرة من خبز الشعير في يد عبد الرحمن فأخذتها فدفعتها إليه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " أنت فأبشر بالجنة"! فتنفس عمر فقال: واها للجنة! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم كلمة أرضى بها عمر، عمر زعم أنه لم يرد خيرا قط إلا سبقه إليه أبو بكر. "كر".
35668 ۔۔۔ عبدالرحمن بن ابی بکرصدیق (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فجر کی نماز سے فارغ ہو کر صحابہ کرام (رض) کی طرف متوجہ ہوئے پوچھا آج کے دن کس نے روزہ رکھا عمر (رض) نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو روزہ کا خیال نہ رہا اس لیے صبح بغیر روزہ کے ہوں ابوبکر (رض) نے کہا میں رات کو روزہ کی نیت کی تھی اس لیے روزہ سے ہوں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا آج تم میں سے کسی نے کسی بیماری کی عیادت کی ہے ؟ عمر (رض) نے کہا ہم تو نماز کے بعد یہیں پر ہیں عیادت کیسے کرتے ؟ ابوبکر (رض) نے کہا مجھے رات خبرملی تھی عبدالرحمن بن عوف بیمار ہیں اس لیے میں اس راستہ پر آیا تاکہ صبح کے وقت ان کے حالات معلوم کروں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا آج تم میں سے کسی نے کسی مسکین کو کھانا کھلایا ہے عمر (رض) کے کہا ہم تو نماز کے بعد سے یہیں ہیں ابوبکر (رض) نے کہا میں مسجد میں داخل ہوا ایک سائل تھا عبدالرحمن کے ہاتھ میں روٹی کا ایک ٹکڑا تھا وہ لے کر میں نے سائل کود یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمہیں جنت کی بشارت ہو عمر (رض) نے سانس لیاہائے جنت تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ ایک کلمہ ہے جس سے عمر (رض) راضی ہوگیا ان کا خیال یہ ہے کہ انھوں نے بھی کسی خبرکا ارادہ کیا ابوبکر (رض) اس میں سبقت لے گئے۔ (رواہ ابن عساکر)