hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 35699

.

كنز العمال

35699
Kanz al-Ummal
35690- "مسند علي" عن محمد بن عقيل قال: خطبنا علي ابن أبي طالب فقال: أيها الناس! أخبروني من أشجع الناس؟ قالوا: أنت يا أمير المؤمنين! قال: أما إني ما بارزت أحدا إلا انتصفت منه ولكن أخبروني بأشجع الناس، قالوا: لا نعلم فمن؟ قال: أبو بكر، إنه لما كان يوم بدر جعلنا لرسول الله صلى الله عليه وسلم عريشا فقلنا: من يكون مع رسول الله صلى الله عليه وسلم لئلا يهوي إليه أحد من المشركين؟ فوالله! ما دنا منا أحد إلا أبو بكر شاهرا بالسيف على رأس رسول الله صلى الله عليه وسلم، لا يهوي إليه أحد إلا أهوى إليه، فهذا أشجع الناس! ولقد رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وأخذته قريش فهذا يجأه وهذا يتلتله وهم يقولون: أنت الذي جعلت الآلهة إلها واحدا! فوالله ما دنا منا أحد إلا أبو بكر! يضرب هذا ويجأ هذا ويتلتل هذا وهو يقول: ويلكم أتقتلون رجلا أن يقول ربي الله! ثم رفع علي بردة كانت عليه فبكي حتى اخضلت لحيته، ثم قال: أنشدكم الله! أمؤمن آل فرعون خير أم أبو بكر؟ فسكت القوم، فقال: ألا تجيبوني! فوالله لساعة من أبي بكر خير من مثل مؤمن آل فرعون! ذاك رجل يكتم إيمانه وهذا رجل أعلن إيمانه. "البزار".
35690 ۔۔۔ (مسندعلی (رض)) محمد بن عقیل سے روایت ہے کہ علی ابن ابی طالب نے ہمیں خطبہ دیا اس میں فرمایا اے لوگو مجھے بتاؤ تم سب سے بہادر کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا آپ اے امیر المومنین میں تو جس سے بھی مقابلہ کرتا ہوں اس کے آدھا ہوتاہوں لیکن تم بتاؤ سب سے بہادر کون ہے ؟ لوگوں نے کہا ہمیں معلوم نہیں تو علی (رض) نے فرمایا ابوبکر ہیں غزوہ بدر کے دن ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ایک چھپر بنایا ہم نے کہا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کون ہوگا تاکہ کوئی مشرک آپ کی طرف نہ بڑھ سکے اللہ کی قسم ابوبکر (رض) سی آپ کے سب سے زیادہ قریب تھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سر پر ننگی تلوار لے کر کھڑے رہے جب بھی کوئی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف بڑھتا ابوبکر (رض) اس طرف بڑھتے یہی لوگوں میں سب سے بہادر ہیں میں نے دیکھا کہ قریش رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پکڑ لیتے کوئی مار تا کوئی منہ کے بل گراتا اور کہتے تم نے ہی تمام معبودوں کو ایک معبود قرار دیا اللہ کی قسم ابوبکر (رض) کے علاوہ کوئی بھی ان کی قریب نہ جاتاو کسی کو مارتے کسی کو دھکا دیتے اور کسی کو گراتے اور کہتے کہ تم ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے پھر علی (رض) نے چادر اٹھا کر رونا شروع کیا یہاں تک داڑھی تر ہوگئی پھر فرمایا میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ مومن آل فرعون بہتر تھا ابوبکر (رض) قوم نے کوئی جواب نہیں دیا پوچھا کیا تم کوئی جواب نہیں دوگے پھر خود ہی فرمایا ابوبکر (رض) کی ایک گھڑی آل مومن کے مثل سے بہتر ہے وہ شخص تو ایمان کو چھپاتا تھا اور یہ ابوبکر اپنے ایمان کا اعلان کرتا ہے۔ (البزار)