hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 35704

.

كنز العمال

35704
Kanz al-Ummal
35695- عن زيد بن أرقم قال: كان لأبي بكر مملوك يغل عليه، فأتاه ليلة بطعام فتناول منه لقمة، فقال له المملوك: ما لك كنت تسألني كل ليلة ولم تسألني الليلة؟ قال: حملني على ذلك الجوع من أين جئت بهذا؟ قال: مررت بقوم في الجاهلية فرقيت لهم فوعدوني، فلما أن كان اليوم مررت بهم فإذا عرس لهم فأعطوني، قال: أف لك! كدت أن تهلكني، فأدخل بيده في حلقه فجعل يتقيأ وجعلت لا تخرج، فقيل له، إن هذه لا تخرج إلا بالماء فدعا بعس من ماء فجعل يشرب ويتقيأ حتى رمى بها، فقيل له: يرحمك الله! كل هذا من أجل هذه اللقمة! قال: لو لم تخرج إلا مع نفسي لأخرجتها، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: كل جسد نبت من سحت فالنار أولى به، فخشيت أن ينبت شيء من جسدي من هذه اللقمة. "الحسن بن سفيان، حل والدينوري في المجالسة".
35695 ۔۔۔ زین بن راقم (رض) سے روایت ہے کہ ابوبکر (رض) ؟ کا ایک غلام تھا جو کھانے کا سامان لایا کرتا تھا ایک ۔ رات کچھ کھانا لایا ابوبکر (رض) نے اس میں سے ایک لقمہ کھایاتو غلام نے کہا کیا وجہ ہے کہ آپ ہر رات مجھ سے پوچھتے ہیں اور آج رات نہیں پوچھ رہے ہیں ؟ فرمایا مجھے اس پر بھوک نے مجبور کیا ہے یہ کھانا کہاں سے لایا بتایا جاہلیت کے دور میں ایک قوم تھی میرا گذر ہوا میں نے ان کے لیے تعویذ کیا انھوں نے مجھ سے اجرت دینے کا وعدہ کرلیا تھا آج پھر میرا ان پر گذر ہوا تو ان کی ایک شادی تھی تو انھوں نے مجھے کھانادیا ہے فرمایا تیرا ناس ہو قریب تھا کہ تو مجھے ہلاک کردیتاپھر اپنا ہاتھ حلق میں داخل کیا اور قئی کرنے کی کوشش کی لیکن نکل نہیں رہا تھا تو ان کو بتایا کہ پانی کے بغیر یہ نہیں ن کے ا گا تو پانی کا پیالہ منگوایا تو پانی پیتا رہا اور قئی کرتا رہا یہاں تک کہ اس کو پھینک دیا ان سے کہا گیا کیا یہ سب کچھ اس لقمہ کی خاطر کیا ہے تو فرمایا اس کو نکالنے کے لیے جان بھی چلی جاتی تب بھی نکال کر ہی رہتا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہر جسم کا جو حصہ حرام سے پرورش پائے وہ آگ میں جلنے کا زیادہ حقدار ہے مجھے خطرہ لاحق ہو کہیں ایسانہ ہو میرے جسم کا کوئی حصہ اس لقمہ سے پرورش پائے۔ (الحسن بن سفیان حلیة الاولیاء والدینوری فی المجالسة)