35796- عن علي بن أبي طالب قال، ما علمت أحدا هاجر إلا مختفيا إلا عمر بن الخطاب، فإنه لما هم بالهجرة تقلد سيفه وتنكب قوسه وانتضى في يده أسهما وأتى الكعبة وأشراف قريش في بفنائها، فطاف سبعا ثم صلى ركعتين عند المقام ثم أتى حلقهم واحدة واحدة فقال: شاهت الوجوه! من أراد أن تثكله أمه ويؤتم ولده وترمل زوجته فليلقني وراء هذا الوادي! فما تبعه منهم أحد. "كر".
35796 ۔۔۔ علی ابن ابی طالب سے منقول ہے کہ میرے علم کے مطابق مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہر شخص نے چھپ کر ہجرت کی سوائے عمر (رض) کے کیونکہ جب انھوں نے ہجرت کا ارادہ کیا تلوار لٹکائی اور کمان الٹ کر تیروں کو ہاتھ میں لیا کعبہ شریف میں آئے اس دوران قریش کے سردار کعبہ کے صحن میں موجود تھے سات دفعہ کعبہ کا طواف کیا پھر مقام ابراہیم کے پاس دو رکعتیں نماز پڑھی پھر ان کے حلقہ کے پاس آیا ایک ایک کرکے اور شاہت الوجوہ کہنے کے بعد اعلان کیا کہ جس کا یہ خیال ہو کر اس کی ماں اس پر روئے اپنی اولاد کو یتیم بنائے اور بیویوں کو بیوہ بنائے وہ مجھ سے اس وادی کے پیچھے ملاقات کرے کسی نے بھی ان کا تعاقب نہیں کیا۔ (رواہ ابن عساکر)