35809- عن زيد بن أسلم ويعقوب بن زيد قالا: خرج عمر ابن الخطاب يوم الجمعة إلى الصلاة فصعد المنبر ثم صاح: يا سارية ابن زنيم الجبل! ظلم من استرعى الذئب الغنم، ثم خطب حتى فرغ؛ فجاء كتاب سارية بن زنيم إلى عمر بن الخطاب: إن الله فتح علينا يوم الجمعة لساعة كذا وكذا - لتلك الساعة التي خرج فيها عمر فتكلم على المنبر، قال سارية: وسمعت صوتا: يا سارية بن زنيم الجبل! يا سارية بن زنيم الجبل! ظلم من استرعى الذئب الغنم، فعلوت بأصحابي الجبل ونحن قبل ذلك ببطن الوادي ونحن محاصرو العدو؛ ففتح الله علينا، فقيل لعمر بن الخطاب: ما ذلك الكلام؟ فقال: والله! ما ألقيت له بالا شيء أتى على لساني. "ابن سعيد".
35809 ۔۔۔ زید بن اسلم اور یعقوب بن زید نے کہا عمر بن خطاب (رض) جمعہ کے دن نماز کے لیے نکلے منبر پر چڑنے کے بعد آواز لگائی یاساریہ بن زنیم الجبل ظلم کیا اس نے جس نے بھیڑ یاکوبکریوں کا محافظ بنایا پھر خطبہ دیا یہاں خطبہ سے فارغ ہوئے پھر ساریہ بن زنیم کا خط عمربن خطاب (رض) کے پاس آیا کہ اللہ تعالیٰ نے جمعہ کے دن فلاں وقت فتح دی اس وقت کانا م لیاجس عمر (رض) نے منبر پر یہ تکلم کیا تھا اور ساریہ نے کہا کہ میں نے یہ آواز سنی یا ساریہ بن زنیم الجبل یاساریہ بن زنیم الجبل ظلم من استرعی الذئب الغنم میں اپنے ساتھیوں کو لے کر پہاڑ کے اوپر چڑھ گیا ہم اس سے قبل وادی میں تو ہم دشمن کے محاصرے میں تھے پس اس طرح اللہ تعالیٰ نے ہمیں فتح دی عمر بن خطاب (رض) سے پوچھا گیا یہ گفتگو کیسی تھی ؟ تو فرمایا اللہ کی قسم میں ایسی بات کی پروا نہیں کرتا جو زبان پر آجائے۔ ابن سعد