35820- "مسنده" عن سفيان عن عوف الأعرابي عن الحسن بن أبي الحسن قال: مر عبد الله بن سلام بعبد الله بن عمر وهو راقد فقال له: قم يا ابن قفل جهنم! فقام عبد الله وقد تغير لونه حتى أتى عمر فقال: أما سمعت ما قاله ابن سلام لي؟ قال: وما قال لك؟ قال لي: قم يا ابن قفل جهنم، فقال عمر: الويل لعمر إن كان بعد عبادة أربعين سنة ومصاهرته لرسول الله صلى الله عليه وسلم وقضاياه بين المسلمين بالاقتصاد أن يكون مصيره إلى جهنم حتى يكون قفلا لجهنم! ثم قام وتقنع بطيلسان له وألقى الدرة على عاتقه فاستقبله عبد الله بن سلام فقال له عمر: يا ابن سلام! بلغني أنك قلت لابني: قم يا ابن قفل جهنم! قال: نعم، قال: وكيف؟ قال: أخبرني أبي عن آبائه عن موسى بن عمران عن جبريل أنه قال: يكون في أمة محمد صلى الله عليه وسلم رجل يقال عمر بن الخطاب أحسن الناس دينا وأحسنهم يقينا، ما دام بينهم الدين عال والدين فاش فجهنم مقفلة، فإذا مات عمر يرق الدين ويقل اليقين، وافترق الناس على فرق من الأهواء، وفتحت أقفال جهنم، فيدخل في جهنم من الآدميين كثير. "كر".
35820 ۔۔۔ مسندو سفیان عوف الاعرابی سے وہ حسن بن ابی الحسن سے روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ بن سلام کا عبداللہ بن عمر (رض) کے پاس سے گذرا ہو اوہ سوئے ہوئے تھے کہا اے جہنم کے تالے کی بیاد کھڑا ہوجا عبداللہ بیدار ہوئے ان کا رنگ متغیر ہوچکا تھا یہاں تک کہ عمر (رض) کے پاس پہنچا اور کہا آپ نے نہیں سنا ابن سلام نے مجھ سے کیا کہا ؟ پوچھا آپ سے کیا بتایا گیا اے جہنم کے تالے کا بیٹا تو عمر (رض) نے کہا عمر کے لیے ہلاکت ہے اگر چالیس سال کی عبادت، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سسرالی رشتہ داری مسلمانوں کے درمیان انصاف سے فیصلہ کرنے کے باوجود اگر جہنم کا تالا ہو پھر مجلس سے اٹھا اور اپنی ٹوپی لگالی اور کندہ پر چادر ڈالا عبداللہ بن سلام سے ملاقات کی اور ان سے پوچھا اے ابن سلام مجھے خبر پہنچی ہی کہ تم نے میرے بیٹے کو قم ابن قفل جہنم کیا ہے تو انھوں نے اعتراف کیا ہاں تو پوچھا وہ کیسے ؟ تو بتایا مجھے میرا والد نے اپنے والد موسیٰ بن عمران سے انھوں نے جبرائیل سے روایت کی ہے کہ امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں عمربن خطاب نامی ایک شخص ہوگا جو دین و ایمان کے اعتبار سے سب سے اچھا ہوگا جب تک وہ امت میں ہوگا دین سربلند رہے گا اور پھیلتا رہے گا اور جہنم پر تالا لگا ہوا ہوگا جب عمر کا انتقال ہوگا دین کمزور ہوتا چلا جائے گا یقین میں کمی آتی جائے گی لوگ خواہش پرستی میں مبتلا ہوں گے اور مختلف فرقوں میں بٹ جائیں گے جہنم کے تالے کھول جائیں گے اس طرح بہت سے لوگ جہنم میں داخل ہوں گے ۔ (رواہ ابن عساکر)