35823- عن أبي بكرة قال: وقف أعرابي على عمر فقال:
يا عمر الخير جزيت الجنة جهز بنياتي واكسهنه
أقسم بالله لتفعلنه
قال عمر: فإن لم أفعل يكون ماذا؟ قال:
أقسم أني سوف أمضينه
قال: فإن مضيت يكون ماذا؟ قال:
والله عن حالي لتسألنه
يوم تكون المسلات ثمه ... والواقف المسؤل بينهنه
إما إلى نار وإما جنة
قال: فبكى عمر حتى اخضلت لحيته بدموعه وقال لغلامه: أعطه قميصي هذا لذلك اليوم لا لشعره والله لا أملك قميصا غيره. "كر".
35823 ۔۔۔ ابی بکرہ سے منقول ہے کہ ایک اعرابی عمر (رض) کے پاس کھڑا ہوا اور کہا اے عمر اللہ تجھے بدلہ میں جنت دے تو میری لڑکیوں کو سامان دے اور ان کو کپڑا پہنا دے میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر کہتاہوں آپ ضرور ایساکریں گے عم (رض) نے کہا اگر ایسانہ کیا تو پھر کیا ہوگا ؟ تو اس نے کہا میں قسم کھاتاہوں میں عنقریب چلاجاؤنگا۔ تو عمر (رض) نے پوچھا اگر چلا گیا تو اس کے بعد کیا ہوگا ؟ اس نے جواب دیا اللہ میری حالت کے بارے میں ضرور سوال کرے گا۔ جس دن سوالات ہوں گے مسول وہاں کھڑا ہوگا سامنے فیصلہ یا تو جنت کا ہوگا یا جہنم کا حضرت عمر (رض) یہ سنکر روپڑے یہاں تک ان کی داڑھی ترہوگی اور اپنے لڑکے سے کہا میری قمیص ان کو اس دن کے لیے دیدو نہ کہ اس شعر کی وجہ سے اللہ کی اس قمیص کے علاوہ میری ملک میں کوئی اور چیز نہیں ۔ (رواہ ابن عساکر)