35843- عن عائشة قالت: أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم بخزيرة طبختها له، فقلت لسودة: كلي - والنبي صلى الله عليه وسلم بيني وبينها - فقلت: لتأكلن أو لألطخن وجهك، فأبت فوضعت يدي في الخزيرة فطليت بها وجهها، فضحك النبي صلى الله عليه وسلم ووضع فخذه لها وقال لسودة: " الطخي وجهها "، فلطخت وجهي، فضحك النبي صلى الله عليه وسلم أيضا، فمر عمر فنادى: "يا عبد الله! يا عبد الله"! فظن النبي صلى الله عليه وسلم أنه سيدخل فقال: " قوما فاغسلا وجوهكما "، قالت عائشة: فما زلت أهاب عمر لهيبة رسول الله صلى الله عليه وسلم إياه. "ع، كر".
35843 ۔۔۔ عائشہ (رض) کرتی ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک خذیرہ (حلواء) لے کر آئی جو میں نے آپ نے پکایا تھا میں نے سودہ (رض) سے کہا کھاؤ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے درمیان تھے میں نے کہا ضرور کھاؤ گی ورنہ تمہارے چہرے کو لت پت کردون کی انھوں نے کھانے سے انکار کیا تو میں نے کچھ حصہ ان کے چہرے پر مل دیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنس پڑے اپنا ران مبار بچھا دیا ان کی خاطر اور سودہ (رض) سے فرمایا کہ تم بھی کچھ ان کے چہرے پر مل دو انھوں نے میرے چہرے پر کچھ مل دیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دوبارہ ہنس پڑے عمر (رض) کا وہاں سے گذر ہو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آواز دی اے عبداللہ اے عبداللہ آپ کو یہ خیال ہواوہ عنقریب داخل ہوں گے تو آپ نے فرمایا اٹھ کر ان دونوں کے چہرے دھلادیں میں عمر (رض) سے برابر ڈرتی رہی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کان سے اہمیت کی وجہ سے ۔ (ابویعلی ابن عساکر)