35866- عن سعيد بن جبير قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي فمر رجل من المسلمين على رجل من المنافقين فقال له: النبي صلى الله عليه وسلم يصلي وأنت جالس! فقال له: امض إلى عملك إن كان لك عمل، فقال: ما أظن إلا سيمر عليك من ينكر عليك، فمر عليه عمر بن الخطاب فقال له: يا فلان! النبي صلى الله عليه وسلم يصلي وأنت جالس! فقال له مثلها، فوثب عليه فضربه حتى انتهر، ثم دخل المسجد فصلى مع النبي صلى الله عليه وسلم، فلما انفتل النبي صلى الله عليه وسلم قام إليه عمر، قال: يا نبي الله! مررت آنفا على فلان وأنت تصلي فقلت له: النبي صلى الله عليه وسلم يصلي وأنت جالس! قال: مر إلى عملك إن كان لك عمل، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "فهلا ضربت عنقه"؟ فقام مسرعا، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "يا عمر! ارجع، فإن غضبك عز ورضاك حكم، إن لله في السماوات السبع ملائكة يصلون له غني عن صلاة فلان"، فقال له عمر: يا نبي الله! وما صلاتهم! فلم يرد عليه شيئا، فأتاه جبريل فقال: يا نبي الله! سألك عمر عن صلاة أهل السماء؟ قال: نعم، قال: أقرئ عمر السلام وأخبره أن أهل السماء الدنيا سجود إلى يوم القيامة يقولون: سبحان ذي الملك والملكوت، وأهل السماء الثانية قيام إلى يوم القيامة يقولون سبحان رب العزة والجبروت! وأهل السماء الثالثة قيام إلى يوم القيامة يقولون: سبحان الحي الذي لا يموت. "كر".
35866 ۔۔۔ سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ رہے تھے تو ایک مسلمان کا ایک منافق پر گذر ہوا تو اس سے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ رہے ہیں اور تم بیٹھے ہوئے ہو تو اس نے جواب دیا تمہیں کوئی درپیش ہو تو کام پر چلے جاؤ تو انھوں نے کہا میرا خیال یہی ہے کہ تم پر ایسا آدمی گذرے گاجوتجھ پر نکیر کرے گا اتفاق سے عمربن خطاب (رض) کا گذر ہوا اس سے پوچھا اے فلاں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ رہے ہیں اور تم بیٹھے ہوئے ہو تو اس نے پہلے جیسا جواب دیاتو فورا اس پر جھپنے اور اس کو ڈانٹا پھر مسجد میں داخل ہو کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز ادا کی جب آپ نماز سے فارغ ہوئے ہو تو عمر (رض) آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کیا اے اللہ کے نبی میرا فلاں پر گذرہو آپ نماز میں تھے میں نے اس سے پوچھا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھا رہے ہیں تم ویسے بیٹھے ہوئے ہو تو اس نے جواب دیا اپنے کام میں لگ جاؤ اگر کوئی کام کرنا چاہتے ہو تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کی گردن کیوں نہ ماردی ؟ تو جلدی سے اس کے لیے اٹھا لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے عمرواپس آجاؤ کیونکہ تمہارے غصہ میں عزت ہے اور رضاء میں حکمت ہے اللہ کے فرشتے ساتوں آسمان میں اللہ کے لیے نماز پڑھتے ہیں اور فلاں کی نماز سے مستغنی ہے تو عمر (رض) سے پوچھا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی نماز کس طرح ہوتی ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کوئی جواب نہیں دیا تو جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور کہا اے اللہ کے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا عمرفرشتوں کی آسمان میں نماز کے متعلق سوال کررہا ہے فرمایا ہاں تو جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا ان کو سلام پہنچا دیں پھر بتادیں کہ آسمان دنیا والے سجدہ میں ہیں قیامت کے لیے اور ان کی تسبیح ہے سبحان ذی الملک والملکوت دوسرے آسمان والے قیامت تک کے لیے حالت قیات میں ہیں اور ان کی تسبیح سبحان رب العزة والجبروت اور تیسرے آسمان والے حالت قیام میں ہیں قیامت تک کے لیے اور ان کی تسبیح ہے سبحان الحی الذی لایموت ۔ (رواہ ابن عساکر)