35885- عن أنس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان في داره فدخل عليه نسوة من قريش يسألنه ويستخبرنه رافعات أصواتهن، فأقبل عمر فاستأذن، فلما سمعن صوت عمر بادرن الحجاب، فأذن لعمر فدخل، فاشتد ضحك النبي صلى الله عليه وسلم، فقال عمر: أضحك الله سنك يا نبي الله! مم ضحكت؟ قال: " لا إلا أن نسوة من قريش دخلن علي يسألنني ويستخيرنني رافعات أصواتهن فوق صوتي، فلما سمعن صوتك بادرن الحجاب"، فقال عمر: يا عدوات أنفسهن! تهبنني وتجترين على نبي الله صلى الله عليه وسلم؟ قالت امرأة منهن: إنك أفظ وأغلظ، فقال نبي الله صلى الله عليه وسلم: " مه عن عمر! فوالله ما سلك عمر واديا قط فسلكه الشيطان". "كر".
35885 ۔۔۔ انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر میں تشریف فرما تھے قریش کی چند عورتیں آئیں آپ سے کچھ مانگ رہی تھیں اور اصرار کررہی تھیں آوازیں بلند کرکے اتنے میں عمر (رض) تشریف لائے اور اندر آنے کی اجازت حاصل کی جب عورتوں نے عمر (رض) کی آواز سنی جلدی سے پردے میں چلی گئیں عمر (رض) کو اندر آنے کی اجازت مل گئی تو عمر (رض) داخل ہوئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنس رہے تھے عمر (رض) نے دعا پڑھی اضحک اللہ سنک اے کے نبی اللہ تعالیٰ آپ کو مزید خوشی نصیب کرے ہنسنے کی وجہ کیا ہے ؟ تو فرمایا کوئی وجہ نہیں سوائے اس کے کہ قریش کی چند عورتیں آئیں مجھے سے کچھ مانگ رہی تھیں اور اصرار کرتے ہوئے آوازیں بلند کررہی تھیں میری آواز پر جب تمہاری آواز سنی جلدی سے پردے کی اوٹ میں چھپ گئیں تو عمر (رض) نے اے اپنے نفس کے دشمنو ! کیا تم مجھ سے ڈرتی ہو اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جرات کرتی ہو تو ان میں ایک عورت نے کہا کہ تم زیادہ سخت ہو زبان اور گرفت کے اعتبار سے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے عمرجاؤ اللہ کی قسم جس وادی سے عمر گذرتا ہے وہاں سے کبھی شیطان نہیں گذرتا ۔ (رواہ ابن عساکر)