35887- عن ابن عمر قال: اجتمعت قريش فقالوا: من يدخل على هذا الصابئ فيرده عما هو عليه فيقتله؟ فقال عمر بن الخطاب: أنا، فأتى العين رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: يا رسول الله! إن عمر بن الخطاب يأتيك فكن منه على حذر! فلما أن صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة المغرب قرع عمر الباب وقال: افتحي يا خديجة فلما أن دنت قالت: من هذا؟ قال: عمر، قالت: يا نبي الله! هذا عمر، فقال من عنده من المهاجرين وهم تسعة صيام وخديجة عاشرتهم: ألا نشتفي يا رسول الله فنضرب عنقه؟ قال: "لا"، ثم قال: " اللهم أعز الدين بعمر بن الخطاب"! فلما دخل قال: ما تقول يا محمد! قال: أقول أن تشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله وتؤمن بالجنة والنار والبعث بعد الموت فبايعه وقبل الإسلام، وصبوا عليه من الماء حتى اغتسل، ثم تعشى مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، وبات يصلي معه، فلما أصبح اشتمل على سيفه ورسول الله صلى الله عليه وسلم يتلوه والمهاجرون خلفه حتى وقف على قريش وقد اجتمعوا فقال: أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله، فمن شاء فليؤمن ومن شاء فليكفر؛ فتفرقت حينئذ قريش عن مجالسها. "كر وابن النجار".
35887 ۔۔۔ ابن عمر سے روایت ہے کہ قریش کا اجتماع ہوا اور اس بات پر مشورہ ہوا کہ کون اس صابی ( رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جائے اور ان کو اپنے ارادہ سے پھیر دے اور ان کو قتل کردے عمربن خطاب نے کہا میں تو ایک خفیہ معلومات فراہم کرنے والا آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہ عمربن خطاب آپ کے پاس آئے گا آپ ان سے ہوشیارر ہیں جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مغرب کی نماز سے فارغ ہوئے عمر (رض) نے دروازہ پر ہیں تو آپ کے پاس جو مہاجرین تھے وہ نو تھے دسویں خدیجہ انھوں نے یارسول ہم ان سے شفاء حاصل نہ کرلیں کہ آپ ان کی گردن ماردیں تو ارشاد فرمایا نہیں پھر دعا کی : اللگم اعزالالم لعمر بن الخطاب ۔ جب عمربن خطاب داخل ہوا تو پوچھا اے محمد آپ کیا کہتے ہیں تو آپ نے فرمایا یہ کہتاہوں اشھدان اللہ لالہ الا اللہ وحد لاشریک لہ وان محمد ا عبدہ ورسولہ ۔ کہ میں گواہی دیتا ہوں اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہیں ان کے ساتھ کوئی شریک نہیں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے بندہ اور رسول ہیں ہم ایمان لاتے ہیں جنت جہنم قیامت کے حق ہونے پ تو عمر نے بیعت کرلی اور اسلام قبول کرلیا ان پر پانی ڈالا گیا یہاں تک کہ غسل کرلیا پھر آپ کے ساتھ کھانا کھایا یا رات آپ کے ساتھ ہی نماز پڑھتے رہے اور صبح کے وقت اپنی تلوار لٹکائی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے ساتھ اور سلمان آپ کے پیچھے یہاں تک کے قریش کے پاس پہنچے ان کا اجتماع ہوا ان کے سامنے کہا : اشھدان لاالہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ واشھدان محمداعبدہ ورسولہ جو چاہے اسلام قبول کرے جو چاہے کفرپر قائم قریش مجلس چھوڑ کر منتشر ہوگئے۔ (ابن عساکر ابن النجار)