hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 35995

.

كنز العمال

35995
Kanz al-Ummal
35986- عن عبد الرحمن بن حاطب قال: أقبلنا مع عمر بن الخطاب قافلين من مكة حتى إذا كنا بشعاب ضجنان قال: لقد رأيتني في هذا المكان وأنا في إبل للخطاب وكان فظا غليظا أحتطب عليها مرة وأختبط عليها أخرى، ثم أصبحت اليوم يضرب الناس بجنباتي ليس فوقي أحد ثم تمثل بهذا البيت: لاشيء فيما ترى إلا بشاشته ... يبقى الإله ويودى المال والولد "أبو عبيد في الغريب وابن سعد، كر".
35986 ۔۔۔ عبدالرحمن بن حاطب سے روایت ہے کہ ہم عمربن خطاب (رض) کے ساتھ مکہ مکرمہ سے واپس لوٹ رہے تھے ضحبنان کی گھاٹی پر ہمارا گذرہواتو فرمایا میں اپنے کو دیکھتا ہوں اس جگہ خطاب کے انٹوں کے ساتھ وہ سخت دل بدزبان تھا کبھی اس پر لکڑیاں لادکر لاتا اور کبھی اس پر چڑھ کر درخت سے پتے جھاڑتا آج میں اس حال میں ہوگیا ہوں کہ لوگ میرے متعلق کہتے ہیں مجھ سے اعلی مرتبہ پر کوئی نہیں پھر یہ شعر پڑھا۔ لاشی فیما تعری الابشاشتہ۔ یبفی الالہ ویودی المال والولد۔ جو کچھ تو دیکھ رہا ہے یہ ظاہری چمک دمک ہے اللہ تعالیٰ کی ذات ہی باقی رہنے والی مال اور اولاد سب فناء ہونے والے ہیں۔ (ابوعبیدفی الغریب وابن سعد، ابن عساکر)