36000- عن إبراهيم أن عمر بن الخطاب كان يتجر وهو خليفة وجهز عيرا إلى الشام فبعث إلى عبد الرحمن بن عوف يستقرضه أربعة آلاف درهم فقال للرسول: قل له: يأخذها من بيت المال ثم ليردها، فلما جاءه الرسول فأخبره بما قال شق عليه، فلقيه عمر فقال: أنت القائل: ليأخذها من بيت المال؟ فإن مت قبل أن تجيء قلتم: أخذها أمير المؤمنين دعوها له، وأوخذ بها يوم القيامة! لا، ولكن أردت أن آخذها من رجل حريص شحيح مثلك فإن مت أخذها من ميراثي. "أبو عبيد في الأموال وابن سعد، كر".
36000 ۔۔۔ ابراہیم سے روایت ہے کہ عمر (رض) زمانہ خلافت میں بگی تجارت کرتے تھی شام کے لیے ایک قافلہ تیار کیا عبدالرحمن بن عوف کے پاس پیغام بگیجا کہ چار ہزار دراہم بطور قرض دیدے تو عبدالرحمننی قاصد سے کہا ان سے کہو بیت المال سے لے اور بعد میں واپس کردے جب قاصد نے واپس آکر عبدالرحمن (رض) کا پہنچایا تو ان پر شاق گذرا بعد میں عمر (رض) کی ان سے ملاقات ہوئی تو پوچھاتم نے کہا ہے کہ بیت المال سے لے لیں (اگر میں نے لے لیا اس کے بعد) اگر مال آنے سے پہلے میرا انتقال ہوجائے تو تم کہو گے امیر المومنین نے قرض لیا ہے معاف کردو پھر قیامت کے روز میرا اس پر پکڑا ہوگا نہیں ہرگز نہیں لونگا لیکن میں تو چاہتا ہوں تم جیسے لالچی اور بخیل شخص سے قرض لوں تاکہ میرا انتقال ہوجائے تو میری میراث سے لے لو۔ (ابوعبید نے اموال میں نقل کیا ابن سعد اور ابن عساکر نقل کیا)