36018- عن جويرية بن أسماء أن عمر بن الخطاب قدم مكة فجعل يجتاز في سككها فيقول لأهل المنازل قموا أفنيتكم، فمربأبي سفيان فقال له: يا أبا سفيان! قموا فناءكم، فقال: نعم يا أمير المؤمنين حتى يجيء مهاننا: ثم إن عمر اجتار بعد ذلك فرأى الفناء كما كان فقال: يا أبا سفيان! ألم آمرك أن تقموا فناءكم؟ قال: بلى يا أمير المؤمنين ونحن نفعل إذا جاء مهاننا، فعلاه بالدرة فضربه بين أذنيه، فسمعت هند فقالت: أبصر به، أما والله لرب يوم لو ضربته لاقشعر بك بطن مكة! فقال عمر: صدقت ولكن الله رفع بالإسلام أقواما ووضع به آخرين. "كر".
36018 ۔۔۔ جویریہ بن اسماء سے روایت ہے کہ عمربن خطاب مکہ مکرمہ آئے اور گلیوں میں چکر لگایا اور لوگوں سے کہا کہ گھر کے صحن کو جھاڑ و دیا کرو ابوسفیان کے سامنے سے گذرے اور فرمایا اے ابوسفیان اپنے صحنوں کو صاف رکھاکرو تو انھوں نے کہا جی ہاں اے امیر المومنین جب ہمارا خادم آجائے گا اس کے بعد عمر (رض) نے دوبارہ چکر لگایا تو دیکھاصحن ویساہی ہے جیسے پہلے تھا تو فرمایا اے ابوسفیان کیا میں نی تم کو حم نہیں دیا تھا کہ اپنے صحن کو صاف کروعرض کیا ہاں اے امیرالمومنین ہم ایساکریں جب خدمتگار آجائے گا درہ لے کر اس کے سرپرکانوں کے درمیان ماراہ اس کی بیوی ہند نے سنا تو کہا ان کا خیال رکھو اللہ کی قسم ایک زمانہ وہ تھا۔ عمر (رض) نے فرمایا کہ تو نے سچ کہا لیکن اسلام کی بدولت اللہ تعالیٰ ایک قوم کے مرتبہ کو بلند کرتا ہے دوسرے کے مرتبہ کو گراتا ہے۔ (رواہ ابن عساکر)