36022- "مسنده" عن ابن عمر قال: شهدت جلولاء فابتعت من المغنم بأربعين ألفا، فلما قدمت على عمر قال لي: أرأيت لو عرضت على النار فقيل لك: افتدني أكنت مفتدي؟ فقلت: والله ما من شيء يؤذيك إلا كنت مفتديك منه! فقال: كأني شاهد الناس حين تبايعوا فقالوا: عبد الله بن عمر صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم وابن أمير المؤمنين وأحب الناس إليه وأنت كذلك فكان أن يرخصوا عليك بمائة أحب إليهم من أن يغلوا عليك بدرهم وإني قاسم مسؤل وأنا معطيك أكثر ما ربح تاجر من قريش لك ربح الدرهم درهم، قال ثم دعا التجار فابتاعوا منه بأربعمائة ألف، فدفع إلي ثمانين ألفا وبعت بالبقية إلى سعد بن أبي وقاص فقال: اقسمه في الذين شهدوا الوقعة، ومن كان مات منهم فادفعه إلى ورثته. "أبو عبيد".
36022 ۔۔۔ ( مسند ابن عمر (رض)) ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ میں جلولا کی لڑائی میں شریک ہوا میں نے مال غنیمت کو چالیس ہزار دراہم میں خرید لیا جب عمر (رض) کے پاس واپس پہنچاتو فرمایا اگر میں آگ میں ڈالاجاؤں اور تجھ سے کہا جائے فدیہ دے کر مجھے چھڑا تو چھڑا لوگے ؟ میں نے عرض کیا جو چیز بھی آپ کے لیے تکلیف ہوگی میں فدیہ اداکرکے آپ کو اس سے چھڑا لوں گا تو فرمایا گویا لوگوں کے ساتھ موجود تھا جب وہ آپس میں خرید فروخت کررہے تھے لوگوں نے کہا عبداللہ بن عمر (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابی امیر المومنین کا بیٹا اور باپ محبوب ترین بیٹا تو یقیناً ایسا ہی ہے تو تجھے سو درہم سستا دینا ان کو درھم تجھے مہنگا دے میں مال غنیمت تقسیم کرنے والا مسئؤل ہوں کسی قریش تاجر نے جو نفع کمایا ہوگا میں اس سے تمہیں دو گنا دوں گا پھرت اجروں کو بلایا تو انھوں نے ایک لاکھ میں خریدا تو مجھے اسی ہزار درھم دیے بقیہ مال سعد بن ابی وقاص (رض) کے پاس بھیج دیا اور فرمایا کہ اس کو اس لڑائی کے شرکاء میں تقسیم کردیں جن کا انتقال ہوگیا ہو ان کے ورثہ کو بھیج دیں۔ ( رواہ ابوعبید)