36053 عن شداد بن أوس عن كعب قال : كان في بني إسرائيل ملك إذا ذكرناه ذكرنا عمر ، وإذا ذكرنا عمر ذكرناه ، وكان إلى جنبه نبي يوحى إليه فأوحى الله إلى النبي أن يقول له : اعهد عهدك واكتب إلي وصيتك فانك ميت إلى ثلاثة أيام ، فأخبره النبي بذلك ، فلما كان اليوم الثالث وقع بين الجدر وبين السرير ثم جأر إلى ربه فقال : اللهم إن كنت تعلم أني كنت أعدل في الحكم ، وإذا اختلفت الامور اتبعت هداك وكنت وكنت فزودني في عمري حتى يكبر طفلي وتربو أمتي ! فأوحى الله إلى النبي أنه قد قال كذا وكذا وقد صدق وقد زدته في عمره خمس عشرة سنة ، ففي ذلك ما يكبر طفله وتربو أمته ، فلما طعن عمر قال كعب : لئن سأل عمر ربه ليبقينه الله ، فأخبره بذلك عمر فقال : اللهم ! اقبضني إليك غير عاجز ولا ملوم (ابن سعد).
36053 ۔۔۔ شدابن اوس بن کعب سے روایت ہے کہ نبی اسرائیل میں ایک بادشاہ تھا جب اس کو یاد کرتے تو عمر (رض) یاد آجاتے ان کی پہلو میں ایک نبی تھا جن پر وحی آتی تھی اللہ تعالیٰ نے نبی کی طرف وحی کی کہ اس بادشاہ سے کہو کہ مجھ سے جو عہد کرنا ہے کرلو جو وصیت کرنا ہے کرلو کیونکہ تم تین دن کے بعد مرجاؤ گے نبی نے ان کو یہ خبردی جب تیسرا دن ہوا تو دیوار اور پلنگ کے درمیان بیٹھ پر اللہ تعالیٰ سے عاجزی انکساری کے ساتھ دعا کی اے اگر تیرے علم کے مطابق میں نے انصاف سے فیصلے کئے جب کسی معاملہ میں اختلاف ہوا میں نے تیری ہدایت کی پیروی کی اور میں نے ایسا ایسا کیا تو میری عمر میں برکت عطاء فرمایہاں تک میرا لڑکا بڑا ہوجائے اور میری امت کی تربیت کرے اللہ تعالیٰ نے اس نبی کی طرف وحی فرمائی کہ انھوں نے ایسا کہا ہے اور سچ بولا میں نے ان کی عمر میں پندرہ سال اضافہ کردیا ہے جس میں ان کا لڑکا بڑا ہوگا اور امت کی تربیت کرے گا جب عمر (رض) کو نیز ہ مارا گیا تو کعب (رض) نیزہ مارا گیا تو کعب (رض) نے کہا اگر عمر (رض) اپنے رب سے دعا کرے کہ ان کو اللہ تعالیٰ باقی رکھے تو عمر (رض) کو اس کی خبردی گئی انھوں نے فورا دعا کہ کہ اللہ مجھے اپنی طرف اٹھالے ایسی حالت میں کہ کسی کی طرف محتاج نہ ہوں نہ ہی کسی ملامت کا حقدار ۔ (رواہ ابن سعد)