36063 عن المقدام بن معد يكرب قال : لما أصيب عمر دخلت عليه حفصة فقالت : يا صاحب رسول الله ! ويا صهر رسول الله ! ويا أمير المؤمنين ! فقال عمر لابنه : يا عبد الله ! أجلسني فلا صبر لي على ما اسمع ، فاسنده إلى صدره فقال لها : إني أحرج عليك بما لي عليك من الحق ان تندبيني بعد مجلسك هذا ، فأما عينك فلن أملكها ، إنه ليس من ميت يندب بما ليس فيه إلا الملائكة تمقته (ابن سعد وابن منيع والحارث).
36063 ۔۔۔ مقدام ابن معد یکرب سے روایت ہے کہ جب عمر (رض) کو نیز ہ مارا گیا تو حفصہ (رض) اندر آئیں اور کہا اے رسول اللہ کے صحابی اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سسراے امیر المومنین تو عمر (رض) نے اپنے بیٹے سے فرمایا اے عبداللہ مجھے بٹھا دو جو کچھ الفاظ سن رہا ہوں میں اس پر صبر نہیں کرسکتا پھر حفصہ (رض) سے فرمایا میں آپ کو پابندکرتاہوں میرے آپ پر حق کی وجہ سے خبردار اس وقت کے بعد میری تعریف کرکے نہ رونا اس کے بغیر تمہاری آنکھیں روئیں وہ میرے اختیار میں نہیں جس میت پر بگی ایسے اوصاف بیان کرکے رویا جائے جو اس میں نہیں ہے فرشتے ضرور اس پر غصہ کرتے ہیں۔ (ابن سعد ابن منیع والحارث)