36073 عن ابن عباس قال : دعاني عمر حين طعن فقال : احفظ عني ثلاث خصال ، من قال علي فيهن شيئا فقد كذب : من قال : إني تركت مملوكا فقد كذب ، ومن قال : إني قضيت في الكلالة بشئ فقد كذب ، ومن قال : إني سميت الخليفة من بعدي فقد كذب ، ثم بكى عمر ، فقال له ابن عباس : ما يبكيك يا أمير المؤمنين ؟ قال : يبكيني أمر آخرتي ، قال ابن عباس : فان فيك يا أمير المؤمنين ثلاث خصال لا يعذبك الله معهن أبدا إن شاء الله ! قال عمر : وما هن ؟ قال : إنك إذا قلت صدقت ، وإذا حكمت عدلت ، وإذا استرحست رحمت ، قال : أشتهد لي بهن عند ربي يا ابن عباس ؟ قال : نعم (ابن سعد).
36073 ۔۔۔ ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ جس وقت عمر (رض) کو نیزہ لگا مجھے بلایا اور فرمایا مجھ سے تین باتیں یاد کرلوجو میرے بارے میں ان کے متعلق گفتگو کرے وہ جھوٹا ہوگا :1 ۔ جوک ہے میں نے اپنے پیچھے کوئی غلام چھوڑا ہے اس نے جھوٹ بولا۔ 2 ۔ جوک ہے کہ میں نے کلالہ کے متعلق کوئی فیصلہ کیا اس نے بھی جھوٹ بولا۔ 3 ۔ اور جوک ہے کہ میں نے اپنے بعد کسی کو خلیفہ مقرر کیا ہے اس نے جھوٹ بولا۔ پھر عمر (رض) روپڑے ابن عباس (رض) نے پوچھا، رونے کا سبب کیا ہے اے امیر المومنین فرمایا مجھے آخرت کا معاملہ ڈرا رہا ہے ابن عباس (رض) نے کہا اے امیر المومنین آپ کو تین خصوصیات حاصل ہیں ان کے ہوتے ہوئے اللہ تعالیٰ آپ کو عذاب نہیں دیں گے انشاء اللہ تعالیٰ ۔ عمر (رض) نے پوچھا وہ کیا ہیں ؟ عرض کیا :1 ۔ آپ جب بات کرتے ہیں سچ بولتے ہیں۔ 2 ۔ جب آپ سے رحم طلب کیا جائے آپ رحم کرتے ہیں۔ 3 ۔ جب آپ فیصلہ کرتے ہیں تو انصاف قائم رکھتے ہیں۔ تو پوچھا کیا تم اللہ تعالیٰ کے دربار میں ان باتوں کی گواہی دوگے اے ابن عباس ؟ عرض کیا ہاں۔ (رواہ ابن سعد)