hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 36105

.

كنز العمال

36105
Kanz al-Ummal
36096- "أيضا" عن زيد بن وهب أن سويد بن غفلة دخل على علي في إمارته فقال: يا أمير المؤمنين! إني مررت بنفر يذكرون أبا بكر وعمر بغير الذي هما له أهل، فنهض إلى المنبر فقال: والذي فلق الحبة وبرأ النسمة! لا يحبهما إلا مؤمن فاضل، ولا يبغضهما ولا يخالفهما إلا شقي مارق، فحبهما قربة وبغضهما مروق، ما بال أقوام يذكرون أخوي رسول الله صلى الله عليه وسلم ووزيريه وصاحبيه وسيدي قريش وأبوي المسلمين؟ فأنا بريء ممن يذكرهما بسوء وعليه معاقب. "حل".
٣٦٠٩٦۔۔۔ ” ایضا “ زید بن وھب کی روایت ہے کہ سوید بن غفلہ حضرت علی (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے، آکر عرض کیا اے امیر المومنین میں ایک جماعت کے پاس سے گزار جو ابوبکر عمر (رض) کا اچھے الفاظ میں تذکرہ نہیں کر رہے تھے چنانچہ آپ (رض) فوراً اٹھے اور منبر پر تشریف لائے اور فرمایا : قسم اس ذات کی جس نے دانے کو پھاڑ اور ذی روح کو پیدا فرمایا : ان دونوں حضرات سے صرف مومن ہی محبت کرتا ہے اور ان سے بغض اور ان کی مخالفت صرف بدبخت اور سرکش ہی کرتا ہے ان دونوں حضرات کی محبت قربت خداوندی کا باعث ہے اور ان سے بغض رکھنا بدبختی ہے بھلا لوگوں کو کیا ہوا جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بھائیوں وزیروں صاحبین قریش کے سرداروں اور مسلمانوں کے ابوین کا تذکرہ کرتے ہیں ؟ جو شخص
بری نظر سے ان تذکرہ کرے گا میں اس سے بری الذمہ ہوں اور اس پر سزا ہوگی۔ (رواہ ابو نعیم فی الحلیۃ)