36100- عن عبد خير قال: قلت لعلي بن أبي طالب: من أول الناس دخولا الجنة بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: أبو بكر وعمر، قلت: يا أمير المؤمنين! يدخلانها قبلك؟ قال: أي والذي فلق الحبة وبرأ النسمة! إنهما ليأكلان من ثمارها ويرويان من مائها ويتكئان على فراشها وأنا موقوف مغموم مهموم بالحساب، وإن أول من يتقدم إلى الرب في الخصومة أنا ومعاوية. العشارى والأصبهاني في الحجة، "كر".
٣٦١٠٠۔۔۔ عبد خیر کی روایت ہے کہ میں نے حضرت علی (رض) سے عرض کیا : رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد لوگوں میں سب سے پہلے جنت میں کون داخل ہوگا ؟ آپ (رض) نے فرمایا : ابوبکر و عمر (رض) میں نے عرض کیا : اے امیر المومنین ! کیا یہ حضرات آپ سے قبل جنت میں داخل ہوں گے ؟ فرمایا : جی ہاں قسم اس ذات کی جو دانے کو پھاڑتی ہے اور جان کو پیدا کرتی ہے۔ بلاشبہ وہ دونوں حضرات جنت کے پھل کھاتے ہوں گے اس کا پانی پیتے ہوں گے اور اس کے بچھونوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے جب کہ میں غمزدہ و پریشان حساب کے لیے کھڑا ہوں گا اللہ تعالیٰ کے حضور سب سے پہلے جھگڑا لے کر جانے والے میں اور معاویہ ہوں گے۔ (رواہ العشاری والاصبھانی فی الحجۃ وابن عساکر)