36145- عن سويد بن غفلة قال: مررت بقوم يذكرون أبا بكر وعمر وينتقصونهما فأتيت عليا فذكرت له ذلك فقال: لعن الله من أضمر لهما إلا الحسن الجميل! أخوا رسول الله صلى الله عليه وسلم ووزيراه، ثم صعد المنبر فخطب خطبة بليغة فقال: ما بال أقوام يذكرون سيدي قريش وأبوي المسلمين بما أنا عنه متنزه ومما يقولون بريء وعلى ما يقولون معاقب، والذي فلق الحبة وبرأ النسمة! إنه لا يحبهما إلا مؤمن تقي ولا يبغضهما إلا فاجر ردي صحبا رسول الله صلى الله عليه وسلم بالصدق والوفاء، يأمران وينهيان ويعاقبان، فما يجاوزان فيما يصنعان رأي رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولا يرى رسول الله صلى الله عليه وسلم كرأيهما رأيا، ولا يحب كحبهما حبا، مضى رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو عنهما
راض والناس راضون، ثم ولي أبو بكر الصلاة، فلما قبض الله نبيه صلى الله عليه وسلم ولاه المسلمون ذلك وفوضوا إليه الزكاة، لأنهما مقرونتان، وكنت أول من يسمى له من بني عبد المطلب وهو لذلك كاره، يود أن بعضنا كفاه، فكان والله خير من بقي؛ أرأفه رأفة وأرحمه رحمة وأكيسه ورعا وأقدمه إسلاما، شبهه رسول الله صلى الله عليه وسلم بميكائيل رأفة ورحمة وبإبراهيم عفوا ووقارا، فسار بسيرة رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى قبض - رحمة الله عليه! ثم ولي الأمر من بعده عمر بن الخطاب واستأمر في ذلك الناس فمنهم من رضي ومنهم من كره فكنت ممن رضي، فوالله ما فارق عمر الدنيا حتى رضي من كان كارها! فأقام الأمر على منهاج النبي صلى الله عليه وسلم وصاحبه، يتبع آثارهما كما يتبع الفصيل اثر أمه، وكان والله خير من بقي رفيقا رحيما وناصر المظلوم على الظالم! ثم ضرب الله بالحق على لسانه حتى رأينا أن ملكا ينطق على لسانه، وأعز الله بإسلامه الإسلام وجعل هجرته للدين قواما1، وقذف في قلوب المؤمنين الحب له وفي قلوب المنافقين الرهبة له، شبهه رسول الله صلى الله عليه وسلم بجبريل فظا غليظا على الأعداء وبنوح حنقا ومغتاظا على الكافرين، فمن لكم بمثلهما؟ لا يبلغ مبلغهما إلا بالحب لهما واتباع آثارهما، فمن أحبهما فقد أحبني ومن أبغضهما فقد أبغضني وأنا منه بريء، ولو كنت تقدمت في أمرهما لعاقبت أشد العقوبة، فمن أتيت به بعد مقامي هذا فعليه ما على المفتري، ألا! وخير هذه الأمة بعد نبيها أبو بكر وعمر ثم الله أعلم بالخير أين هو؛ أقول قولي هذا ويغفر الله لي ولكم."خيثمة واللالكائي وأبو الحسن علي بن أحمد بن إسحاق البغدادي في فضائل أبي بكر وعمر والشيرازي في الألقاب وابن منده في تاريخ أصبهان: كر".
٣٦١٤٥۔۔۔ سوید بن غفلہ کہتے ہیں : ایک مرتبہ کچھ لوگوں کے پاس سے میرا گزر ہوا جو حضرت ابوبکر و (رض) حضرت عمر (رض) کا تذکرہ کر رہے تھے اور ان کی تنقیص سے اپنی زبانوں کو آلودہ کر رہے تھے فوراً میں حضرت علی (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے اس کا تذکرہ کیا آپ (رض) نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جو ان دونوں کے متعلق بجز ذکر خیر اور حسن جمیل کے کوئی اور بات دل میں چھپائے رکھے وہ دونوں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بھائی اور وزیر ہیں۔ پھر آپ (رض) منبر پر تشریف لے گئے اور فصیح وبلیغ خطبہ ارشاد فرمایا لوگوں کو کیا ہوا جو قریش کے سرداروں مسلمانوں کے ابو ین کے متعلق لب کشائی کرتے ہیں جس سے میں سراسر بری الذمہ ہوں جو یہ کہتے ہیں میں اس سے بیزار ہوں ان کی چہ مگوئیوں پر عذاب و سزا ہے قسم اس ذات کی جو دانے کو پھاڑتا ہے اور ذی روح کو پیدا کرتا ہے ان دونوں سے وہی محبت کرتا ہے جو پرہیزگار مومن ہے ان سے بغض و عداوت وہی رکھتا ہے جو فاجر و ہلاک ہونے والا ہے چنانچہ ابوبکر (رض) و عمر (رض) صدق و فاء کے ساتھ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے رہے برائی کے مرتکبین کو سزائیں دیتے رہے وہ سرمو بھی رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رائے سے تجاوز نہیں کرتے تھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ان کی رائے کو ترجیح دیتے تھے ان جیسی محبت نہیں رہی رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا سے رخصت ہوئے تو ان دونوں سے راضی تھے اور لوگ بھی ان سے راضی رہے پھر ابوبکر (رض) نے نماز کی تولیت قبول فرمائی جب اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو اپنے پاس بلا لیا تو مسلمانوں نے ابوبکر (رض) کو اپنا خلیفہ منتخب کیا کچھ لوگوں نے زکوۃ کی ادائیگی سے انکار کیا جب کہ زکوۃ و خلافت دونوں آپس میں ب اہمیت رکھتی ہیں۔ بنی عبد المطلب میں پہلا شخص میں ہوں جس نے خلافت کیلئے ابوبکر کو منتخب کیا بخدا وہ زندہ رہنے والوں میں سب سے افضل تھے میرے دل میں ان کی رأفت و رحمت ہے میں انھیں ورع وتقوی میں سب سے آگے سمجھتا ہوں اور اسلام لانے میں سب سے مقدم سمجھتا ہوں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رافت و رحمت کے اعتبار سے انھیں میکائیل کے ساتھ تشبیہ دی ہے جب کہ عفو و درگزر اور عزت و وقار کے اعتبار سے ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ تشبیہ دی ہے ابوبکر (رض) نے سیرت رسول کو اپنائے رکھا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی روح قبض کرلی۔ ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہوں۔ پھر ان کے بعد بار خلافت حضرت عمر (رض) نے اٹھایا چنانچہ امر خلافت میں لوگوں سے مشورہ لیا جب کہ کچھ لوگ رضا مند تھے اور کچھ ناخوش تھے جب کہ میں ان لوگوں میں سے تھا جو رضا مند تھے اللہ کی قسم عمر (رض) اس وقت تک دنیا سے رخصت نہیں ہوئے جب تک کہ ناخوش لوگ خوش نہیں ہوگئے عمر (رض) نے امر خلافت کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) و ابوبکر (رض) کی نہج پر استوار رکھا عمر (رض) ان دونوں کے نقش قدم پر اسی طرح چلے جس طرح بچھیرا اپنی ماں کے پیچھے چلتا ہے بخدا زندہ رہنے والوں میں سب سے افضل تھے رفیق و رحیم تھے ظالم کے خلافت مظلوم کی مدد کرتے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے عمر (رض) کی زبان پر حق کو جاری وساری کیا حتی کہ ہم سمجھتے تھے کہ آپ کی زبان پر فرشتہ نطق کرتا ہے آپ کے اسلام لانے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اسلام کی عزت کو دوبالا کیا آپ کی ہجرت سے دین کو قوت ملی اللہ تعالیٰ نے مومنین کے دلوں میں ان کی محبت ڈال دی اور منافقین کے دلوں میں ان کا عرب ڈال دیا رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دشمنوں پر غیظ و غضب کے اعتبار سے آپ نے جبرائیل (علیہ السلام) کے ساتھ تشبیہ دی دوٹوک رویہ اور شدت مزاج کے اعتبار سے نوح (علیہما السلام) کے ساتھ تشبیہ دی تم میں سے کون ہے جو ان جیسا ہو ان کی پہنچ تک کسی کی رسائی بجزان کی محبت کا دم بھرنے کے اور ان کے نقش قدم پر چلنے کے جس نے ان سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی جس نے ان سے بغض و عدات رکھی اس نے مجھ سے بغض و عداوت رکھی میں اس سے بری الذمہ ہوں اگر میں تقدم کرچکا ہوتا ان کے معاملہ میں تو میں اس پر سخت معاقبت کرتا لہٰذا میرے اس مقام کے علاوہ اگر کسی نے کچھ اور نظریہ رکھا اس کی وہی سزا ہے جو کسی افتراء باندھے والے کی ہوسکتی ہے خبردار ! نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد اس امت کے سب سے افضل افراد ابوبکر و عمر ہیں۔ پھر کون افضل ہے اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے میں یہی بات کہتا ہوں اللہ تعالیٰ میری اور آپ سب کی مغفرت کرے۔ (رواہ خیثمد والالکانی وابو الحسن علی بن احمد بن اسحاق البغداری فی فضائل ابی بکر و سمر والشیرازی فی الالقاب وابن مندہ فی تاریخ اصبھان وابن عساکر)