36150- عن ابن عمر قال: لما ولي علي قال له رجل: يا أمير المؤمنين! كيف تخطاك المهاجرون والأنصار إلى أبي بكر وأنت أكرم منقبة وأقدم سابقة؟ فقال له: والله لولا أن المؤمنين عائذة الله لقتلتكّ! ولئن بقيت لتأتينك مني روعة خضراء، ويحك! إن أبا بكر سبقني إلى أربع لم أوتهن ولم أعتض منهن: إلى مرافقة الغار، وإلى تقدم الهجرة، وإني آمنت صغيرا وآمن كبيرا، وإلى إقام الصلاة.
٣٦١٥٠۔۔۔ ابن عمر (رض) کی روایت ہے کہ جب حضرت علی (رض) نے جب خلافت کی ذمہ داری قبول فرمائی تو ایک شخص نے آپ سے کہا : اے امیر المومنین ! مہاجرین و انصار نے آپ کو چھوڑ کر کس طرح ابوبکر کے ہاتھ پر بیعت کرلی تھی حالانکہ آپ منقبت میں اکرم و اعلیٰ ہیں اور سبقت میں اقدام ہیں ؟ آپ (رض) نے اس شخص سے فرمایا : بخدا ! اگر مومنین اللہ تعالیٰ کی پناہ میں نہ ہوتے میں تمہیں قتل کردیتا اور اگر تو زندہ رہا ضرور جرم کا مرتکب ہوگا تیرا ناس ہو ابو بکر مجھ سے چار چیزوں میں آگے بڑھ گئے ہیں رفاقت غار سبقت ہجرت میں صٖغر سنی میں ایمان لایا جب کہ ابوبکر کبرسنی میں ایمان لائے اور اقامت نماز میں مجھ سے آگے بڑھ گئے۔ (رواہ ابو طالب العشاری فی فضائل الصدیق)