hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 36167

.

كنز العمال

36167
Kanz al-Ummal
36158- عن عصمة بن مالك الخطمي قال: قدم رجل من أهل البادية بإبل له فلقيه رسول الله صلى الله عليه وسلم فاشتراها منه، فلقيه علي فقال: ما أقدمك؟ قال: قدمت بإبل فاشتراها رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: فنقدك؟ قال: لا، ولكن بعتها منه بتأخير، فقال له علي: ارجع إليه فقل له: يا رسول الله! إن حدث بك حدث فمن يقضيني بما لي؟ فانظر ما يقول لك فارجع إلي حتى تعلمني، فقال: يا رسول الله! إن حدث بك حدث فمن يقضيني؟ قال: أبو بكر، فأعلم عليا، قال: ارجع فسله، فإن حدث بأبي بكر حدث فمن يقضيني؟ فسأله، فقال له: عمر، فجاء فأعلم عليا، قال: ارجع فاسأله: إذا مات عمر فمن يقضيني؟ فجاءه فسأله فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ويحك! إذا مات عمر فإن استطعت أن تموت فمت. "كر".
٣٦١٥٨۔۔۔ عصمہ بن مالک خطمی کی روایت ہے کہ اہل بادیہ (دیہات) کا ایک شخص اپنے اونٹوں کو لے کر آیا اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کی ملاقات ہوئی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے اونٹ خرید لیے بعد میں حضرت علی (رض) کی اس شخص سے ملاقات ہوئی آپ (رض) نے پوچھا : تم کیوں آئے ہو عرض کیا : میں اونٹ لے کر آیا ہوں جنہیں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خرید لیا ہے آپ (رض) نے فرمایا : مال نقدی لے لیا ہے ؟ عرض کیا : نہیں میں نے مال مختصر کرکے اونٹ فروخت کر دئیے ہیں حضرت علی (رض) نے فرمایا : واپس جاؤ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کرو کہ اگر آپ دنیا سے رخصت ہوجائیں تو میرا مال کون ادا کرے گا ؟ ذرا دھیان رکھنا رسول اللہ تجھے کیا حکم دیتے ہیں پھر واپس آکر مجھے بھی اطلاع کرنا۔ چنانچہ اس شخص نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر عرض کیا : یا رسول اللہ ! خدانخواستہ اگر آپ دنیا سے رخصت ہوجائیں تو میرا قرض کون ادا کرے گا ؟ آپ (رض) نے فرمایا ابوبکر ادا کردیں گے چنانچہ اس شخص نے حضرت علی (رض) کو اطلاع دی آپ (رض) نے فرمایا : واپس آجاؤ اور دوبارہ پوچھو کہ اگر ابوبکر بھی دنیا سے رخصت ہوجائیں تو پھر کون ادا کرے گا اس شخص نے آکر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہی سوال کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہم ادا کریں گے واپس جا کر اس شخص نے حضرت علی (رض) کو خبر کردی آپ نے کہا : پھر واپس جاؤ اور پوچھو کہ اگر عمر (رض) رخصت ہوجائیں کون قرض ادا کرے گا چنانچہ وہ شخص دوبارہ خدمت میں حاضر ہوا اور یہی سوال پوچھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیری ہلاکت ! جب عمر مرجائیں تو اگر تم سے ہوسکے تم بھی مرجاؤ۔ (رواہ ابن عساکر)
کلام : ۔۔۔ یہ حدیث معنی موجود ہے دیکھئے اسنی المطالب ١٦٥٣۔