36183- عن بشير الأسلمي قال: لما قدم المهاجرون المدينة استنكروا الماء وكانت لرجل من بني غفار عين يقال لها رومة وكان يبيع منها القربة بمد، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: بعنيها بعين في الجنة، فقال: يا رسول الله! ليس لي ولعيالي غيرها ولا أستطيع، فبلغ ذلك عثمان فاشتراها بخمس وثلاثين ألف درهم، ثم أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله! أتجعل لي مثل الذي جعلته له عينا في الجنة إن اشتريتها؟ قال: نعم، قال: قد اشتريتها وجعلتها للمسلمين. "طب، كر".
٣٦١٨٣۔۔۔ بشیر اسلمی کی روایت ہے کہ جب مہاجرین مدینہ منورہ پہنچے تو انھوں نے پانی کو کم یاب پایا تاہم قبیلہ بنی غفار کے ایک شخص کا چشمہ تھا جسے ” رومہ “ کہا جاتا تھا وہ شخص ایک مدغلہ کے بدلہ میں ایک مشکیزہ پانی بیچتا تھا رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص سے فرمایا : یہ چشمہ مجھے جنت میں ایک چشمے کے بدلہ میں بیج دو اس نے جواب دیا : یا رسول اللہ ! میں عیالدار ہوں اور میرے پاس اس چشمے کے علاوہ آمدنی کا کوئی اور ذریعہ نہیں ہے اور نہ ہی میں کسب معاش کی طاقت رکھتا ہوں چنانچہ عثمان (رض) کو اس کی خبر ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پینتیس ہزار (٣٥٠٠٠) درہم میں خرید لیا (اور عامۃ المسلمین کے لیے وقف کردیا) پھر آپ (رض) رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! اگر وہ چشمہ میں خرید لوں تو میرے لیے بھی اسی کی طرح جنت میں چشمہ ہوگا ؟ آپ (رض) نے فرمایا : جی ہاں عرض کیا : یا رسول اللہ ! وہ چشمہ میں نے خرید لیا ہے اور مسلمانوں کے لیے وقف کردیا۔ (رواہ الطبرانی وابن عساکر)