36217- عن عائشة قالت: مكث آل محمد صلى الله عليه وسلم أربعة أيام ما طعموا شيئا حتى تضاغى1 صبيانهم فدخل عليهم النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا عائشة! هل أصبتم بعدي شيئا؟ فقلت: من أين إن لم يأتنا الله به على يديك؟ فتوضأ وخرج مستحيا2 يصلي ههنا مرة وههنا مرة يدعو، فأتانا عثمان من آخر النهار فاستأذن، فهممت أن أحجبه ثم قلت: هو رجل من مكاثير المسلمين لعل الله ساقه إلينا ليجري لنا على يديه خيرا فأذنت له، فقال: يا أماه! أين رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فقلت: يا بني! ما طعم آل محمد مذ أربعة أيام شيئا فدخل رسول الله صلى الله عليه وسلم متغيرا ضامر البطن، فأخبرته بما قال لها وبما ردت عليه، فبكي عثمان ثم قال: مقتا للدنيا يا أم المؤمنين! ما كنت بحقيقة أن ينزل بك هذا ثم لا تذكريه لي ولعبد الرحمن ابن عوف ولثابت بن قيس ونظرائنا من مكاثير المسلمين، ثم خرج فبعث إلينا بأحمال من الدقيق وأحمال من الحنطة وأحمال من التمر وبمسلوخ1 وثلاثمائة في صرة ثم قال: هذه يبطيء عليكم - فأتانا بخبز وشواء كثير فقال: كلوا أنتم هذا وضعوا - لرسول الله صلى الله عليه وسلم حتى يجيء ثم أقسم علي أن لا يكون مثل هذا إلا أعلمته إياه، ودخل رسول الله فقال: يا عائشة! هل أصبتم بعدي شيئا؟ قلت: نعم يا رسول الله! قد علمت أنك إنما خرجت تدعو الله ولقد علمت أن الله لن يردك عن سؤالك، قال: فما أصبتم؟ قلت: كذا وكذا حمل بعير دقيقا وكذا وكذا حمل بعير حنطة وكذا وكذا حمل بعير تمرا وثلاثمائة درهم في صرة وخبز وشعواء كثير، فقال: ممن؟ قلت من عثمان بن عفان دخل علي فأخبرته فبكى وذكر الدنيا بمقت وأقسم علي أن لا يكون فينا مثل هذا إلا أعلمته فما جلس رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى خرج إلى المسجد ورفع يديه وقال: اللهم! إني قد رضيت عن عثمان فارض عنه - ثلاثا. "أبو نعيم في فضائل الصحابة، "كر" وابن قدامة في كتاب البكاء والرقة، وأبو نعيم".
٣٦٢١٧۔۔۔ عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر والوں نے چار دن تک کوئی چیز نہ کھائی حتیٰ کہ بچے چیخنے لگے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ گھر والوں کے پاس تشریف لائے اور فرمایا میرے بعد تم نے کوئی چیز پانی ہے ؟ میں نے عرض کیا : بھلا ہم کہاں سے پاتے اگر اللہ تعالیٰ آپ کے ہاتھ پر کسی چیز کو نہ لائے چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وضو کیا اور حالت انقباض میں نکل گئے پھر کبھی ایک جگہ نماز پڑھی اور کبھی دوسری جگہ اور پھر دعا میں مصروف ہوگئے چنانچہ ان کے آخری حصہ میں عثمان (رض) ہمارے پاس تشریف لائے اجازت طلب کی میں نے چاہا کہ معاملہ عثمان (رض) سے پوشیدہ رکھوں لیکن پھر مجھے خیال آیا کہ یہ مالدار مسلمانوں میں سے ہیں شاید اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ پر ہمارے لیے کوئی مال بھیجا ہو میں نے انھیں اجازت دی اندر آکر فرمایا : اے اماں جان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہاں ہیں ؟ میں نے کہا : اے بیٹا ! محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر والوں نے چار دنوں سے کوئی چیز نہیں کھائی پھر میں نے عثمان (رض) کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق خبر دی عثمان (رض) رونے لگے اور پھر فرمایا اے المومنین ! اس دنیا کا ناس ہو جب آپ پر یہ مصیبت نازل ہوئی ہے تو آپ نے مجھے عبد الرحمن بن عوف ثابت بن قیس اور ہم جیسے دوسرے مالدار مسلمانوں کو خبر کیوں نہیں کی عثمان (رض) گھر سے باہر نکل گئے اور ہمارے لیے آٹا گندم اور کھجور کے بہت سارے تھیلے بھیجے کھال اترئی ہوئی ایک بکری بھی بھیجیں ایک تھیلی بھیجی جس میں تین سو درہم تھے پھر کہا : کہ یہ سامان تمہیں جلدی میں بھیجا ہے جب کہ عثمان (رض) خود روٹیاں اور بھونا ہوا بہت سا گوشت لے کر آئے اور کہا : یہ کھاؤ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے بھی رکھو پھر مجھے قسم دے کہ کہا جب بھی ایسی حالت ہو مجھے ضرور خبر کرو تھوڑی دیر بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور فرمایا : اے عائشہ ! میرے بعد تم نے کوئی چیز پائی ہے ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے علم تھا کہ جب آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے دیکھا کہ اتنا آٹا گندم اور کھجوریں ایک تھیلی جس میں تین سو درہم روٹیاں اور بھونا ہوا گوشت فرمایا کس نے دیا ہے ؟ میں نے عرض کیا : عثمان بن عفان (رض) میرے پاس آئے میں نے انھیں خبر کی وہ رونے لگے پھر مجھے قسم دی کہ جب بھی ایسی حالت ہو میں انھیں ضرور خبر کروں چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھے نہیں اور فوراً مسجد کی طرف چل پڑے اور دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے لگے، یا اللہ میں عثمان سے راضی ہوں تو بھی اس سے راضی ہوجا۔ تین
بار یہ دعا فرمائی۔ (رواہ ابو نعیم فی فضائل الصحابۃ وابن عساکر وابن قدامہ فی کتاب البکاء والرقۃ وابو نعیم)
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے الشریۃ ٣٩١۔ ٣٩٢ والجامع المصنف ٣٥٨۔