36219- عن عائشة قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم مضطجعا في بيته كاشفا عن فخذيه أو ساقيه فاستأذن أبو بكر فأذن له وهو على تلك الحال فتحدث، ثم استأذن عمر فأذن له وهو كذلك فتحدث، ثم استأذن عثمان فجلس رسول الله صلى الله عليه وسلم وسوى ثيابه فدخل فتحدث، فلما خرج قلت لرسول الله صلى الله عليه وسلم: يا رسول الله! دخل أبو بكر فلم تجلس ولم تباله ثم دخل عمر فلم تهش له ولم تباله ثم دخل عثمان فجلست وسويت ثيابك! فقال: ألا أستحيي من رجل تستحيي منه الملائكة. "م ، "عد" وابن جرير.
٣٦٢١٩۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر میں لینے ہوئے تھے جب کہ آپ کی رانوں یا پنڈلیوں سے کپڑا ہٹا ہوا تھا اتنے میں ابوبکر (رض) نے اجازت طلب کی آپ نے انھیں اجازت مرحمت فرمائی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسی حالت پر باتیں کرتے رہے پھر عمر (رض) نے اجازت طلب کی آپ نے انھیں اجازت دی اور اسی حالت پر لیٹے ہوئے باتیں کرتے رہے پھر عثمان (رض) نے اجازت طلب کی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھ گئے اور کپڑے درست کرلیے عثمان (رض) داخل ہوئے اور باتیں کرتے رہے جب یہ حضرات چلے گئے میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ابوبکر گھر میں داخل ہوئے آپ بیٹھے نہیں اور نہ ہی کوئی پروا کی پھر عمر (رض) داخل ہوئے آپ ملے نہیں اور نہ ہی پروا کی لیکن جب عثمان داخل ہوئے آپ بیٹھ گئے اور کپڑے بھی درست کرلیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا میں اس شخص سے حیاء نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیاء کرتے ہیں۔ (رواہ مسلم وابو یعلی وابو داؤد وابن جریر)