36228- عن ابن عمر قال، كنت شاهد النبي صلى الله عليه وسلم: في حائط نخل فاستأذن أبو بكر فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ائذنوا له وبشروه بالجنة، ثم استأذن عمر فقال: ائذنوا له وبشروه بالجنة، ثم استأذن عثمان فقال: ائذنوا له وبشروه بالجنة على بلوى تصيبه، فدخل يبكي ويضحك، قال عبد الله: فأنا يا نبي الله! قال: أنت مع أبيك. "كر".
٣٦٢٢٨۔۔۔ ابن عمر (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں کھجوروں کے ایک باغ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حاضر تھا ابوبکر (رض) نے آپ کے پاس آنے کی اجازت طلب کی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا انھیں اجازت دو اور جنت کی بشارت بھی دو پھر عمر (رض) نے اجازت طلب کی فرمایا : انھیں بھی اجازت دو جنت کی بشارت بھی دو لیکن انھیں جنت میں جانے کے لیے بلوی کا سامنا کرنا ہوگا چنانچہ عثمان (رض) روتے ہوئے داخل ہوئے اور ہنستے ہوئے باہر نکلے عبداللہ بن عمر (رض) نے عرض کیا : یا نبی اللہ ! میرے لیے کیا حکم ہے ؟ ارشاد فرمایا : تم اپنے باپ کے ساتھ ہوگئے۔ (رواہ ابن عساکر)