hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 36242

.

كنز العمال

36242
Kanz al-Ummal
36233- عن ابن عمر قال: بينا رسول الله صلى الله عليه وسلم جالس وعائشة وراءه إذا استأذن أبو بكر فدخل ثم استأذن عمر فدخل ثم استأذن علي فدخل ثم استأذن سعد بن مالك فدخل، ثم استأذن عثمان بن عفان فدخل ورسول الله صلى الله عليه وسلم يتحدث كاشفا عن ركبتيه فمد ثوبه على ركبتيه وقال لامرأته: استأخري عني؟ فتحدثوا ساعة ثم خرجوا، قالت عائشة: فقلت: يا رسول الله! دخل عليك أصحابك فلم تصلح ثوبك على ركبتيك ولم تؤخرني عنك حتى دخل عثمان! فقال: يا عائشة! ألا أستحيي من رجل تستحيي منه الملائكة؟ والذي نفس محمد بيده! إن الملائكة لتستحيي من عثمان كما تستحيي من الله ورسوله، ولو دخل وأنت قريبة مني لم يرفع رأسه ولم يتحدث وخرج. "ع، كر".
٣٦٢٣٣۔۔۔ ابن عمر (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر پر تشریف فرما تھے عائشہ (رض) آپ کے پیچھے بیٹھی ہوئی تھیں اتنے میں ابوبکر (رض) نے اجازت طلب کی وہ اندر داخل ہوئے پھر عمر (رض) نے اجازت طلب کی اور وہ بھی اندر داخل ہوئے پھر علی (رض) نے اجازت طلب کی وہ بھی اندر داخل ہوگئے پھر سعد بن مالک (رض) اجازت طلب کرکے اندر داخل ہوئے پھر عثمان بن عفان (رض) نے اجازت طلب کی اور اندر داخل ہوئے۔ (اس سے قبل) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے گٹھنے ننگے لیے ہوئے گفتگو کرتے رہے جوں ہی عثمان (رض) داخل ہوئے آپ نے کپڑا گٹھنوں پر کھینچ لیا اور اپنی بیوی (عائشہ (رض)) سے فرمایا : میرے پاس سے پیچھے ہوجاؤ پھر یہ صحابہ (رض) تھوڑی دیر باتیں کرتے رہے اور پھر باہر نکل گئے حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں : میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ کے پاس آپ کے صحابہ (رض) داخل ہوئے اور آپ نے گٹھنوں پر کپڑا نہیں کھینچا اور نہ ہی مجھے پیچھے ہٹایا حتیٰ کہ جب عثمان (رض) داخل ہوئے اس وقت آپ نے کپڑا بھی درست کیا اور مجھے بھی پیچھے کردیا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عائشہ (رض) ! اس شخص سے میں حیاء کروں جس سے فرشتے بھی حیاء کرتے ہیں قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں محمد کی جان ہے بلاشبہ فرشتے عثمان سے حیاء کرتے ہیں جیسا کہ اللہ اور اس کے رسول سے حیاء کرتے ہیں اگر عثمان داخل ہوئے حالانکہ تم میرے قریب ہوتی وہ اپنا سر ہی اوپر نہ اٹھاتے اور نہ ہی کوئی بات کرتے حتیٰ کہ باہر نکل جاتے۔ (رواہ ابو یعلی وابن عساکر)