36235- عن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لما أسري بي إلى السماء فصرت إلى السماء الرابعة سقط في حجري تفاحة، فأخذتها بيدي فانفلقت فخرج منها حوراء تقهقه، فقلت لها: تكلمي لمن أنت؟ قالت: للمقتول شهيدا عثمان بن عفان. "خط، كر" وقال: هذا الحديث منكر بهذا الإسناد، وكل رجاله ثقات سوى أبي جعفر محمد بن سليمان بن هشام والحمل فيه عليه.
٣٦٢٣٥۔۔۔ ابن عمر (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جب مجھے آسمانوں کی سیر کے لیے لے جایا گیا میں چوتھے آسمان پر تھا یکایک میری گود میں ایک سیب گرا میں نے اسے اپنے ہاتھ میں اٹھا لیا جونہی میں نے اسے توڑا تو اس سے ایک حور برآور ہوئی جو کھلکھلا کر ہنس رہی تھی میں نے اس سے کہا : بات کرو تم کس کی ملکیت ہو وہ بولی : میں اس مقتول کے لیے ہو جو شہید کیا جائے گا یعنی عثمان بن عفان (رض) ۔ (رواہ الخطیب وابن عساکر وقال : ھذا الحدیث منکر بھذا الاسناد وکل رجالہ ثقات سوی ابی جعفر بن محمد بن سلیمان بن ہشام والحمل فیہ علیہ)
کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ترتیب الموضوعات ٢٥٣ والتشریۃ ٣٧٤١۔