36310- عن ابن سيرين قال: ذكر رجلان عثمان فقال أحدهما قتل شهيدا، فتعلقه الآخر فأتى به عليا فقال: هذا يزعم أن عثمان قتل شهيدا، فقال له علي: أقلت ذلك؟ قال: نعم، وأنت تشهد، أما تذكر يوم أتيت النبي صلى الله عليه وسلم وعنده أبو بكر وعمر وعثمان وأنت فسألت النبي صلى الله عليه وسلم فأعطاني وسألت أبا بكر فأعطاني وسألت عمر فأعطاني وسألت عثمان فأعطاني وسألتك فمنعتني فقلت: يا رسول الله! ادع الله لي أن يبارك لي، فقال: وما لك لا يبارك لك وقد أعطاك نبي وصديق وشهيدان - ثلاث مرات؟ قال: دعوه."العدني، ع، كر".
٣٦٣١٠۔۔۔ ابن سیرین (رح) کے روایت ہے کہ وہ شخص حضرت عثمان (رض) کا تذکرہ کر رہے تھے ان میں سے ایک کہہ رہا تھا عثمان (رض) کو شہید کیا گیا ہے دوسرا شخص اس سے لپٹ گیا اور اسے حضرت علی (رض) کے پاس لے آیا اور کہا : اس شخص کا دعوی ہے کہ عثمان (رض) شہید کیے گئے ہیں حضرت علی (رض) نے اس شخص سے فرمایا : تم یہ بات کہتے ہو ؟ عرض کیا : جی ہاں آپ بھی اس کے گواہ ہیں۔ کیا آپ کو یاد ہے جس دن میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ (رض) کے پاس ابوبکر و عمر عثمان (رض) اور آپ بھی تھے میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا آپ نے مجھے عطاء کیا ابوبکر (رض) سے سوال کیا انھوں نے عطا کیا عمر (رض) سے سوال کیا انھوں نے بھی مجھے عطا کیا عثمان (رض) سے سوال کیا انھوں نے بھی مجھے عطاء کیا پھر آپ سے سوال کیا پر آپ نے مجھے کچھ نہ دیا میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! دعا کریں اللہ تعالیٰ اس امل میں میرے لیے برکت فرمائے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بھلا برکت کیوں نہیں ہوگی حالانکہ تمہیں نبی نے صدیق نے اور دو شہیدوں نے عطاء کیا ہے ؟ آپ نے تین بار یہ ارشاد فرمایا : حضرت علی (رض) نے کہا : اسے چھوڑ دو ۔ (رواہ العدنی وابو یعلی وابن عساکر)