36323- عن أبي موسى قال: كنت عند النبي صلى الله عليه وسلم في حديقة بني فلان والباب علينا مغلق ومع النبي صلى الله عليه وسلم عود ينكت به في الأرض إذا استفتح رجل، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: يا عبد الله بن قيس! فقلت: لبيك يا رسول الله! قال: قم فافتح له الباب وبشره بالجنة. فقمت ففتحت له الباب فإذا أنا بأبي بكر الصديق؛ فأخبرته بما قال له النبي صلى الله عليه وسلم؛ فحمد الله تعالى ودخل وسلم ثم قعد وأغلقت الباب، فجعل النبي صلى الله عليه وسلم ينكت بذلك العود في الأرض فاستفتح آخر؛ فقال: يا عبد الله بن قيس! قم فافتح له الباب وبشره بالجنة، فقمت ففتحت له الباب فإذا أنا بعمر بن الخطاب، فأخبرته بما قال النبي صلى الله عليه وسلم، فحمد الله تعالى ودخل فسلم وقعد وأغلقت الباب، فجعل النبي صلى الله عليه وسلم ينكت بذاك العود في الأرض إذا استفتح الثالث، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: يا عبد الله بن قيس! قم فافتح له الباب وبشره بالجنة على بلوى تكون، فقمت ففتحت له الباب فإذا أنا بعثمان بن عفان، فأخبرته بما قال النبي صلى الله عليه وسلم فقال: الله المستعان وعلى الله التكلان، ثم دخل فسلم وقعد. "كر".
٣٦٣٢٣۔۔۔ ابو موسیٰ (رض) کی روایت ہے کہ میں بنی فلاں کے باغ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھا دروازہ بند تھا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک لکڑی تھی جس سے آپ زمین کرید رہے تھے اتنے میں کسی شخص نے دروازے پر دستک دی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عبداللہ بن قیس ! میں نے عرض کیا : لبیک یا رسول اللہ ! فرمایا : کھڑے ہوجاؤ زدروزاہ کھولو اور اسے جنت کی بشارت دو میں کھڑا ہوا اور دروازہ کھولا ، دیکھتا ہوں کہ ابوبکر صدیق (رض) ہیں میں نے انھیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمان کی خبر کی انھوں نے اللہ تعالیٰ حمد کی اندر داخل ہوئے سلام کیا اور بیٹھ گئے میں نے دروازہ بند کردیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر ٹہنی سے زمین کر یدنی شروع کردی اتنے میں دوسرے شخص نے دروازے پر دستک دی حکم ہوا : اے عبداللہ بن قیس کھڑے ہوجاؤ دروازہ کھولو اور آنے والے کو جنت کی بشارت دو میں کھڑا ہوا دروازہ کھولا دیکھتا ہوں کہ عمر (رض) کھڑے ہیں میں نے انھیں فرمان نبوی کی خبر دی اندر داخل ہوئے سلام کیا اور بیٹھ گئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر ٹہنی کر یدنی شروع کردی اتنے میں تیسرے شخص نے دروازے پر دستک دی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عبداللہ بن قیس ! کھڑے ہوجاؤ دروازہ کھولو اور آنے والے کو جنت کی بشارت دو لیکن بشرط آزمائش میں کھڑا ہوا دروازہ کھولا دیکھا تو عثمان (رض) تھے میں نے انھیں فرمان نبوی کی خبر کی عثمان (رض) نے کہا : اللہ تعالیٰ ہی سے مدد کا خواستگار ہوں اور اللہ تعالیٰ پر ہی بھروسہ ہے پھر آپ داخل ہوئے سلام کیا اور بیٹھ گئے (رواہ ابن عساکر)