36324- عن إبراهيم بن عمرو بن محمد حدثني أبي عن عبد الله ابن عمر عن حفصة زوج النبي صلى الله عليه وسلم أنها كانت قاعدة وعائشة مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: وددت أن معي بعض أصحابي نتحدث! فقالت عائشة: أرسل إلى أبي بكر يتحدث معك؛ قال: لا؛ قالت حفصة: أرسل إلى عمر يتحدث معك؛ قال: لا؛ ولكن أرسل إلى عثمان؛ فجاء عثمان فدخل فقامتا فأرختا الستر فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لعثمان: إنك مقتول مستشهد فاصبر صبرك الله! ولا تخلعن قميصا قمصك الله ثنتي عشرة سنة وستة أشهر حتى تلقى الله وهو عنك راض؛ فقال عثمان: إن دعا النبي صلى الله عليه وسلم لي الصبر - وفي لفظ: فقال عثمان: ادع الله لي بالصبر؛ فقال: اللهم صبره؛ فقال: اللهم صبره - فخرج عثمان؛ فلما أدبر قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: صبرك الله فإنك سوف تستشهد وتموت وأنت صائم وتفطر معي؟ قال إبراهيم: وحدثني أبي عن عبد الرحمن بن أبي بكر أن عائشة حدثته بمثل ذلك. "ع؛ كر".
٣٦٣٢٤۔۔۔ ابراہیم بن عمرو بن محمد کی روایت ہے کہ میرے والد نے ابن عمر (رض) کے واسطہ سے حضرت حفصہ (رض) سے نقل کیا ہے کہ وہ بیٹھی ہوئی تھیں جب کہ عائشہ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھیں آپ نے فرمایا : میں چاہتا ہوں کہ میرے ساتھ میرا کوئی صحابی ہو تاکہ ہم گفتگو کریں عائشہ (رض) نے کہا : ابوبکر (رض) کو پیغام بھجوا کر بلوالیں۔ فرمایا : نہیں حفصہ (رض) نے کہا : عمر (رض) کو بلوائیں فرمایا : نہیں لیکن میں عثمان (رض) کو بلواتا ہوں چنانچہ عثمان (رض) آئے عائشہ (رض)، حفصہ (رض) دونوں پردے کے پیچھے چلی گئیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عثمان (رض) سے فرمایا : تمہیں قتل کرکے شہید کیا جائے گا صبر کرنا اللہ تعالیٰ تمہیں صبر کی توفیق عطاء فرمائے اللہ تعالیٰ نے تمہیں بارہ سال چھ ماہ سے جو قمیص پہنائی ہوگی اسے ہرگز نہ اتارنا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ سے جا ملو اور وہ تم سے راضی ہو عثمان (رض) فرماتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے صبر کی دعا فرمائی ایک روایت میں ہے عثمان (رض) نے عرض کیا : اللہ تعالیٰ سے میرے لیے صبر کی دعا کریں فرمایا : یا اللہ ! اسے صبر کی توفیق عطاء فرما۔ جب عثمان (رض) اٹھ کر نکل گئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہیں صبر کی توفیق عطا فرمائے تمہیں عنقریب شہید کردیا جائے گا تمہیں روزے کی حالت میں موت آئے گی اور میرے ساتھ افطار کرو گے ابراہیم کہتے ہیں : مجھے میرے والد نے عبد الرحمن بن ابی بکر سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت عائشہ (رض) نے بھی انھیں ایسی ہی حدیث سنائی ہے۔ (رواہ ابو یعلی وابن عساکر)
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ ٥٩٢٩۔