36342- "أيضا" عن ميمون أبي عبد الله قال: كنت عند زيد بن أرقم فجاء رجل فسأل عن علي قال: كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر بين مكة والمدينة فنزلنا مكانا يقال له "غدير خم" فأذن الصلاة جامعة، فاجتمع الناس فحمد الله وأثنى عليه ثم قال: يا أيها الناس! ألست أولى بكل مؤمن من نفسه؟ قلنا: بلى يا رسول! نحن نشهد أنك أولى بكل مؤمن من نفسه، قال: فإني من كنت مولاه فهذا مولاه وأخذ بيد علي ولا أعلمه إلا قال: اللهم وال من والاه وعاد من عاداه. ابن جرير.
٣٦٣٤٢۔۔۔ ” ایضاً “ میمون ابو عبداللہ کی روایت ہے میں حضرت زید بن ارقم (رض) کے پاس تھا اتنے میں ایک شخص آیا اور حضرت علی (رض) کے بارے میں سوال کیا : زید (رض) نے کہا : ہم مکہ اور مدینہ کے درمیان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک سفر میں تھے غدیر خم کے مقام پر ہم نے پڑاؤ کیا وہاں اعلان ہوا ” الصلوٰۃ جامعۃ “ لوگ جمع ہوگئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کے بعد فرمایا : اے لوگو ! کیا میں ہر مومن کا اسی کی جان سے زیادہ حقدار نہیں ہوں ؟ ہم نے عرض کیا : جی ہاں یا رسول اللہ ! ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ ہر مومن کا اسی کی جان سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں۔ ارشاد فرمایا : جس کا میں دوست ہوں یہ بھی اس کا دوست ہے آپ نے حضرت علی (رض) کو ہاتھ میں پکڑ رکھا تھا حالانکہ میں علی (رض) کو نہیں جانتا تھا یا اللہ ! جو علی کا دوست ہو تو بھی اس کا دوست ہوجا اور جو اس سے دشمنی رکھے تو بھی اس سے دشمنی رکھ۔ (رواہ ابن جریر)