36345- "مسند زيد بن أبي أوفى" لما آخى النبي صلى الله عليه وسلم بين أصحابه قال علي: لقد ذهب روحي وانقطع ظهري حين رأيتك فعلت بأصحابك ما فعلت غيري، فإن كان هذا من سخط علي فلك العتبى والكرامة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: والذي بعثني بالحق!ما أخرتك إلا لنفسي، وأنت مني بمنزلة هارون من موسى غير أنه لا نبي بعدي، وأنت أخي ووارثي؛ قال: وما أرث منك يا رسول الله؟ قال: ما ورث الأنبياء من قبلي، قال: وما ورث الأنبياء من قبلك؟ قال: كتاب ربهم وسنة نبيهم، وأنت معي في قصري في الجنة مع فاطمة ابنتي، وأنت أخي ورفيقي. "حم" في كتاب مناقب علي.
٣٦٣٤٥۔۔۔ ” مسند زیاد بن ابی اوفی “ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام (رض) کے درمیان مواخات قائم کی حضرت علی (رض) نے کہا، میری روح نکل گئی اور میری پیٹھ ٹوٹ گئی جب میں نے آپ کو صحابہ (رض) کے درمیان مواخات قائم کرتے دیکھا اور مجھے مواخات میں شامل نہیں کیا۔ اگر یہ مجھ پر ناراضگی کی وجہ سے ہے تو سزا دینا یا عزت دینا آپ کے ہاتھ میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قسم اس ذات کی جس نے مجھے نبی بنا کر بھیجا ہے میں نے تمہیں اپنے لیے موخر کیا ہے۔ مجھ سے آپ کا تعلق ایسا ہی ہے جیسا ہارون کا موسیٰ سے تھا۔ الا یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا تو میرا بھائی اور میرا وارث ہے حضرت علی (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں آپ سے وراثت میں کیا پاؤں گا ؟ ارشاد فرمایا : وہ کچھ جو مجھ سے پہلے انبیاء وراثت میں چھوڑتے تھے عرض کیا : آپ سے پہلے انبیاء نے وراثت میں کیا چھوڑا ہے ؟ ارشاد فرمایا : اپنے رب کی کتگاب اور اپنی سنت۔ تم جنت میں میرے محل میں میری بیٹی فاطمہ (رض) کے ساتھ ہوگے تو میرا بھائی اور جنت کا رفیق ہے۔ (رواہ احمد بن حنبل فی کتاب مناقب علی)