36362- عن عفيف الكندي قال: جئت في الجاهلية إلى مكة وأنا أريد أن ابتاع لأهلي من ثيابها وعطرها فأتيت العباس وكان رجلا تاجرا فإني عنده جالس أنظر إلى الكعبة وقد كلفت الشمس وارتفعت في السماء فذهبت إذ أقبل شاب فنظر إلى السماء ثم قام مستقبل الكعبة فلم ألبث إلا يسيرا حتى جاء غلام فقام عن يمينه ثم لم ألبث إلا يسيرا حتى جاءت امرأة فقامت خلفهما فركع الشاب فركع الغلام والمرأة فرفع الشاب فرفع الغلام والمرأة فسجد الشاب فسجد الغلام والمرأة، فقلت: يا عباس! أمر عظيم؟ فقال: أمر عظيم، تدري من هذا الشاب؟ هذا محمد بن عبد الله بن أخي، تدري من هذا الغلام؟ هذا علي ابن أخي، تدري من هذه المرأة؟ هذه خديجة بنت خويلد؛ زوجته؛ إن ابن أخي هذا حدثني أن ربه رب السماوات والأرض أمره بهذا الدين ولا والله ما على ظهر الأرض أحد على هذا الدين غير هؤلاء الثلاثة. "عد، كر"؛ وفيه سعيد بن خيثم الهلالي، قال الأزدي: منكر الحديث عن أسد بن عبد الله العسري، قال "خ": لا يتابع على حديثه.
٣٦٣٦٢۔۔۔ عفیف کندی کی روایت ہے کہ میں جاہلیت میں مکہ آیا میرا ارادہ تھا کہ میں گھر والوں کے لیے کپڑے اور خوشبو وغیرہ خرید لوں اس مقصد کے لیے میں عباس (رض) کے پاس آیا وہ اس وقت تاجر تھے میں ان کے پاس بیٹھا کعبہ کی طرف دیکھ رہا تھا سورج ساف ہو کر آسمان میں بلند ہونے لگا تھا یکایک ایک شخص آیا آسمان کی طرف دیکھا پھر کعبہ کی طرف منہ کرکے کھڑا ہوگیا تھوڑی دیر گزری تھی کہ ایک لڑکا آیا اور اس کی دائیں طرف کھڑا ہوگیا پھر تھوڑی دیر کے بعد ایک عورت آئی اور ان کے پیچھے کھڑی ہوئی وہ شخص جھک گیا اس کے ساتھ لڑکا اور عورت بھی جھک گئے اس شخص نے سر اٹھایا اس کے ساتھ لڑکے اور عورت نے بھی سر اٹھایا اس نے سجدہ کیا لڑکے اور عورت نے بھی سجدہ کیا میں نے کہا : اے عبس ! یہ کیا عظیم معاملہ ہے جواب دیا : جی ہاں یہ عظیم معاملہ ہے کیا تم اس شخص کو جانتے ہو ؟ یہ میرا بھتیجا محمد بن عبداللہ ہے اس لڑکے کو جانتے ہو ؟ یہ مرا بھتیجا علی ہے۔ اس عورت کو جانتے ہو ؟ یہ اس شخص کی بیوی خدیجہ بنت خویلد ہے میرا یہ بھتیجا کہتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کا رب اس کا رب ہے اسی نے اسے اس دین کا حکم دیا ہے اس دین پر زمین کے اوپر ان تینوں کے سوا اور کوئی نہیں ہے۔ (رواہ ابن عدی وابن عساکر وفیہ سعید بن حیثم الھلالی قال الازدی : منکر الحدیث عن اسد ابن عبداللہ العسری قال البخاری لایتابع علی حدیثہ)
فائدہ :۔۔۔ اس حدیث سے تشیع کی بدبو آرہی ہے بھلا ابوبکر (رض) جو ہر وقت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ رہتے تھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھیں اور ابوبکر حاضر نہ ہوں۔ (فافھم وتامل۔