36388- عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: كان علي يخرج في الشتاء في إزار ورداء ثوبين خفيفين، وفي الصيف في القباء المحشو والثوب الثقيل، فقال الناس لعبد الرحمن: لو قلت لأبيك فإنه يسمر1 معه، فسألت أبي فقلت: إن الناس قد رأوا من أمير المؤمنين شيئا استنكروه، قال: وما ذاك؟ قال: يخرج في الحر الشديد في القباء المحشو والثوب الثقيل ولا يبالي ذلك، ويخرج في البرد الشديد في الثوبين الخفيفين والملاءتين لا يبالي ذلك ولا يتقي بردا، فهل سمعت في ذلك شيئا فقد أمروني أن أسألك أن تسأله إذا سمرت عنده، فسمر عنده فقال: يا أمير المؤمنين! إن الناس قد تفقدوا منك شيئا، قال: وما هو؟ قال: تخرج في الحر الشديد في القباء المحشو والثوب الثقيل وتخرج في البرد الشديد في الثوبين الخفيفين وفي الملاءتين لا يبالي ذلك ولا تتقي بردا، قال: أو ما كنت معنا يا أبا ليلى بخيبر؟ قلت: بلى والله قد كنت معكم، قال: فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث أبا بكر فسار بالناس فانهزم حتى رجع إليه وبعث عمر فانهزم بالناس حتى انتهى إليه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لأعطين الراية رجلا يحب الله ورسوله ويحبه الله ورسوله يفتح الله له، ليس بفرار؛ فأرسل إلي فدعاني، فأتيته وأنا أرمد لا أبصر شيئا، فتفل في عيني وقال: اللهم اكفه الحر والبرد! فما آذاني بعده حر ولا برد. "ش، حم، هـ" والبزار وابن جرير وصححه، "طس، ك، ق" في الدلائل، "ض".
٣٦٣٨٨۔۔۔ عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) سردیوں میں دو ہلکے ہلکے کپڑوں ازار اور چادر میں باہر نکلتے تھے جب کہ گرمیوں میں موٹی قبا اور بھاری کپڑے پہنتے تھے لوگوں نے عبد الرحمن سے کہا اگر تم اپنے والد سے کہو چونکہ وہ رات کو حضرت علی (رض) کے ساتھ گفتگو کرتے رہے ہیں، چنانچہ میں نے والد سے پوچھا کہ لوگوں نے امیر المومنین کی کچھ حالت دیکھی ہے جسے وہ اجنبی سمجھتے ہیں۔ کہا : وہ کیا ہے ؟ کہا : امیر المومنین شدید گرمی میں موٹے قبا اور بھاری کپڑا پہنتے ہیں اور ان میں کچھ پروا نہیں کرتے جب کہ سردیوں میں کپڑے یا چادریں پہن لیتے ہیں اور اس کی انھیں پروا بھی نہیں ہوتی کیا آپ نے یہ بات ان سے سنی ہے لوگوں نے مجھے کہا ہے کہ میں آپ سے سوال کروں اور آپ علی (رض) سے رات کی گفتگو کے دوران پوچھا ہیں چنانچہ ابو لیلی رات کو گفتگو کے دوران پوچھا : اے امیر المومنین ! لوگوں نے آپ سے ایک چیز کو مفقود پایا ہے فرمایا : وہ کیا ہے ؟ عرض کیا : آپ شدید گرمی میں موٹی قبا اور بھاری کپڑے پہنتے ہیں اور شدید سردی میں دو ہلکے کپڑے یا دو چادریں نہیں لیتے ہیں آپ کو اس پر واہ ہی نہیں ہوتی اور نہ ہی آپ سردی سے بچاؤ کا سامان کرتے ہیں حضرت علی (رض) نے فرمایا : اے ابو لیلی ! تم خیبر میں ہمارے ساتھ نہیں تھے ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں بخدا ! میں آپ کے ساتھ تھا فرمایا : رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر (رض) کو بھیجا وہ لوگوں کو اپنے ساتھ لے کر گئے وہ شکست کھا کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس واپس لوٹ آئے پھر عمر (رض) کو بھیجا وہ بھی شکست کھا کر واپس لوٹ آئے تاہم رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں ایسے شخص کو جھنڈا دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اللہ کا رسول بھی اس سے محبت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر فتح نصیب فرمائے گا۔ وہ بھاگنے والا نہیں ہے چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے پیغام بھیج کر اپنے پاس بلایا میں خدمت میں حاضر ہوا جب کہ مجھے آشوب چشم کا مرض لاحق تھا آپ نے میری آنکھوں میں تھوک دیا اور فرمایا : یا اللہ ! گرمی و سردی میں اس کی کفایت فرما۔ اس کے بعد گرمی نے اذیت پہنچائی اور نہ ہی سردی نے۔ (رواہ ابن ابی شیبہ واحمد بن حنبل وابن ماجہ والبزار وابن جریر وصححہ والطبرانی فی الاوسط والحاکم والبیہقی فی الدلائل والضیاء)