36417- عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: خطب علي فقال: أنشد الله امرأ نشدة الإسلام سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم غدير خم أخذ بيدي يقول: ألست أولى بكم يا معشر المسلمين من أنفسكم؟ قالوا: بلى يا رسول الله! قال: من كنت مولاه فعلي مولاه، اللهم! وال من والاه وعاد من عاداه، وانصر من نصره واخذل من خذله - إلا قام فشهد! فقام بضعة عشر رجلا فشهدوا وكتم قوم؛ فما فنوا من الدنيا إلا عموا وبرصوا. "خط" في الأفراد.
٣٦٤١٧۔۔۔ عبد الرحمن بن ابی لیلی کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) نے لوگوں سے خطاب کیا اور فرمایا : میں اس شخص کو اللہ تعالیٰ اور اسلام کا واسطہ دیتا ہوں جس نے غدیر خم کے موقع پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سنا ہو وہ ضرور گواہی دے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری ہاتھ پکڑ کر فرمایا : اے مسلمانو کی جماعت ! میں تمہاری جانوں سے زیادہ تمہارا حق نہیں رکھتا ہوں ؟ لوگوں نے کہا : جی ہاں یا رسول اللہ ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص کا میں دوست ہوں علی بھی اس کا دوست ہے یا اللہ ! جو علی کا دوست رکھتا ہو تو بھی اسے دوست رکھ جو علی کا دشمن ہو تو بھی اس کا دشمن ہوجا جو اس کی مدد کرے تو بھی اس کی مدد کر اور جو علی کو بےیار چھوڑتا ہو تو بھی اسے بےیار کر دے چنانچہ اس سے کچھ زیادہ لوگوں نے گواہی دی جب کہ بہت سارے لوگ گواہی چھپا گئے چنانچہ وہ دنیا میں اندھے اور برص زدہ ہو کر فنا ہوئے۔ (رواہ الخطیب فی الافراد)