hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 36444

.

كنز العمال

36444
Kanz al-Ummal
36434- عن جابر قال: سمعت عليا ينشد ورسول الله صلى الله عليه وسلم يسمع: أنا أخو المصطفى لا شك في نسبي. ... معه ربيت وسبطاهما ولدي جدي وجد رسول الله منفرد. ... وفاطم زوجتي لا قول ذي فند1 صدقته وجميع الناس في بهم. ... من الضلالة والإشراك والنكد فالحمد لله شكرا لا شريك له. ... البر بالعبد والباقي بلا أمد فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال: صدقت يا علي. "كر" وفيه عمارة ابن زيد، قال الأزدي: كان يضع الحديث: قلت: الذي أقطع به أن هذا الشعر مصنوع موضوع على علي، ما قاله علي قط لأن من له براعة في نقد الشعر يعلم أن هذا نازل الدرجة في صناعة الشعر، ومقام علي رضي الله عنه أعلى بدرجات من أن يقول هذا الشعر النازل، لا سيما وفي سنده هذا الوضاع.
٣٦٤٣٤۔۔۔ جابر (رض) کی روایت ہے کہ میں نے حضرت علی (رض) رنہ کو مندرجہ ذیل اشعار پڑھتے ہوئے سنا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ان کی سماعت کر رہے تھے۔
انا اخو المصطفی لاشک فی نسبی معہ ربیت وسبطا ھما ولدی
میں محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بھائی ہوں میرے نسب میں کوئی شک نہیں ہے میری ان کے ساتھ ترتیب کی گئی ہے اور ان
کے دونواسے میرے بیٹے ہیں۔
جدی وجد رسول اللہ منفرح وفاطم زوجتی لاقول ذی فند
میرا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دادا ایک ہی ہے اور فاطمہ (رض) میری بیوی ہے جھوٹے کی بات کوئی حیثیت نہیں
صدقتہ و جمیع الناس فی بھم من الصلاۃ والاشراک والنکد
میں نے اس وقت ان کی تصدیق کی ہے جب سارے لوگ گمراہی شرک اور مکدر زندگی کے بھنور میں پھنسے ہوئے تھے۔
فالحمدللہ شکرا لا شریک لہ البر بالعبد والباقی بلا امد
تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہیں اور میں اس کا شکر ادا کرتا ہوں اس کا کوئی شریک نہیں نیکی بندے کا خزانہ ہے اور اس کے علاوہ سب کچھ فضول ہے۔
رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرا دئیے اور فرمایا : اے علی تم سچ کہا : (رواہ ابن عساکر وفیہ عمارۃ ابن زیا، ازدی کہتے ہیں : یہ شخص حدیثیں وضع کرتا تھا میں کہتا ہوں صبح بات یہ ہے کہ یہ اشعار حضرت علی (رض) کے نام پر وضع کئے گئے ہیں حالانکہ یہ اشعار حضرت علی (رض) نے نہیں فرمائے چونکہ جس شخص میں معمولی سی بھی براعت اشعار ہو وہ جانتا ہے کہ یہ اشعار شعری مرتبہ و مقام سے کس قدر پست ہیں حضرت علی (رض) کی ذات ایسے اشعار کہنے سے بالاتر ہے چہ جائیکہ ایسے جھونے وضاع کی سند سے یہ اشعار ان کی طرف منسوب کیے جائیں) ۔