36459- عن فاطمة الزهراء عن أم سلمة قالت: والذي أحلف به! إن كان علي لأقرب الناس عهدا برسول الله صلى الله عليه وسلم، قالت عدنا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم قبض في بيت عائشة فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم غداة بعد غداة يقول: جاء علي؟ مرارا، قالت وأظنه كان بعثه في حاجة فجاء بعد، فظننا أنه له إليه حاجة فخرجنا من البيت فقعدنا بالباب فكنت من أدناهم من الباب فأكب عليه علي، فجعل يساره ويناجيه، ثم قبض من يومه ذلك فكان أقرب الناس به عهدا. "ش".
٣٦٤٥٩۔۔۔ حضرت فاطمہ (رض) کی روایت ہے کہ ام سلمہ (رض) کہتی ہیں : بخدا حضرت علی (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بہت قریب تھے چنانچہ جس دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا سے رخصت ہوئے ہم آپ کی تیمارداری کے لیے حاضر ہوئیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عائشہ (رض) کے گھر میں تھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باربار فرماتے۔ کیا علی آگیا ہے ؟ ام سلمہ (رض) کہتی ہیں میرا خیال ہے کہ آپ نے علی (رض) کو کسی کام سے بھیجا تھا تھوڑی دیر بعد حضرت علی (رض) واپس لوٹ آئے ہم سمجھے کہ آپ کو علی (رض) سے کوئی ضروری کام ہے ہم باہر نکل آئے اور دروازے پر بیٹھ گئے میں دوسروں کی نسبت آپ اور علی (رض) کے زیادہ قریب تھی، میں نے دیکھا کہ علی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جھکے ہوئے ہیں اور آپ نے علی سے سرگوشیاں کوئی شروع کردیں پھر اسی دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کو پیارے ہوگئے یوں اس اعتبار سے علی (رض) آپ کے زیادہ قریب تھے۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)