hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 36472

.

كنز العمال

36472
Kanz al-Ummal
36462- "مسند علي" قال الترمذي وابن جرير معا: حدثنا إسماعيل بن موسى السدي نبأنا محمد بن عمر الرومي عن شريك عن سلمة بن كهيل عن سويد بن غفلة عن الصنابحي عن علي قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أنا دار الحكمة وعلي بابها. "حل"، قال الترمذي: هذا حديث غريب وفي نسخة، منكر، وروى بعضهم هذا الحديث عن شريك1 ولم يذكروا فيه: عن الصنابحي، ولم يعرف هذا الحديث عن أحد من الثقات غير شريك وفي الباب عن ابن عباس انتهى وقال ابن جرير هذا خبر صحيح مسنده وقد يجب أن يكون على مذهب آخرين سقيما غير صحيح لعلتين: إحداهما أنه خبر لا يعرف له مخرج عن علي عن النبي صلى الله عليه وسلم إلا من هذا الوجه، والأخرى أن سلمة بن كهيل عندهم ممن لا يثبت بنقله حجة، وقد وافق عليا في رواية هذا الخبر عن النبي صلى الله عليه وسلم غيره.
٣٦٤٦٢۔۔۔ ” مسند علی “ ترمذی وابن جریر دونوں روایت کرتے ہیں اسماعیل بن موسیٰ سعدی محمد بن عمر رومی شریک سلمہ بن کہیل عن سوید بن غفلہ صنا بحی علی (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں حکمت کا خزانہ ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔ (رواہ ابو نعیم فی الحلیۃ امام ترمذی کہتے ہیں ایک نسخہ کے اعتبار سے یہ حدیث غریب اور منکر ہے بعض محدثین نے یہ حدیث شریک کے واسطہ سے روایت کی ہے لیکن اس کی سند میں صنابحی کا ذکر نہیں کیا جب کہ ثقہ راویوں میں سے شریک کے علاوہ کسی سے معروف نہیں ہے وفی الباب عن ابن عباس انتھی۔ ابن جریر کہتے ہیں یہ حدیث صحیح و مسند ہے ہاں البتہ دوسرے محدثین کے نقطہ نظر سے اگرچہ سقیم و ضعیف ہے اور اس کی دو وجہیں ہوسکتی ہیں۔ (١) اس کا مخرج عن علی عن (رض) اس طریق کے علاوہ کسی اور طریق سے ثابت نہیں (٢) سلمہ بن کہیل محدثین کے نزدیک ایسا راوی ہے جس کی مرویات کسی طرح حجت نہیں۔ جب کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اور بھی روایات اس کی موافقت میں روایت کی گئی ہیں
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے الاتقان : ٣١٢ والتزکرۃ ١٦٣۔