36532- عن علي قال: جعت مرة بالمدينة فإذا أنا بامرأة قد جمعت مدرا فظننتها تريد بله1 فأتيتها فقاطعتها كل ذنوب على تمرة،فمددت ستة عشر ذنوبا حتى مجلت يداي : ثم أتيت الماء فأصبت منه ثم أتيتها فقلت بكفي هكذا بين يديها وبسط إسمعيل بيديه وجمعهما فعدت لي ستة عشر تمرة ، فأتيت النبي صلى الله عليه وسلم فأخبرته بذلك ، فأكل معي منها (حم والدورقي وابن منيع وحل وزاد : وقال لي خيرا ودعا لي وصحح).
٣٦٥٣٢۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ مدینہ میں بھوک نے مجھے بہت تنگ کیا اچانک میں ایک عورت کے پاس پہنچ گیا وہ مٹی کے ڈھلیے جمع کر رہی تھی میرا گمان ہے کہ وہ انھیں تر کرنا چاہتی تھی میں نے اس سے ہر ڈول کے بدلہ میں ایک کھجور پر معاملہ طے کرلیا میں نے سولہ (١٦) ڈول کھینچے جنگی وجہ سے میرے ہاتھ ڈھال بن گئے پھر میں پانی لایا اور اس عورت کے پاس آیا اور کہا : میں نے اتنا پانی نکال دیا ہے ہاتھوں سے اشارہ کیا اسماعیل نے اپنے ہاتھ پھیلا کر اشارہ کیا چنانچہ عورت نے میرے لیے سولہ کھجوریں گنیں، میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو خبر کی آپ نے میرے ساتھ دل کو کھجوریں تناول فرمائیں۔ (رواہ احمد بن حنبل والد ورتی وابن منیع وابو نعیم فی الحلیہ وفیہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اچھی بات کہی اور مجھے دعا دی و صحح)