36538 (أيضا) عن زاذان عن علي أنه كان يمشي في الاسواق وحده وهو وال يرشد الضال وينشد الضال ويعين الضعيف ويمر بالبياع والبقال فيفتح عليه القرآن ويقرأ (تلك الدار الآخرة نجعلها للذين لا يريدون علوا في الارض ولا فسادا) ويقول : نزلت هذه الآية في أهل العدل والتواضع من الولاة وأهل القدرة من سائر الناس (كر).
٣٦٥٣٨۔۔۔ ” ایضاً “ زاذان کی روایت ہے ایک مرتبہ حضرت علی (رض) اکیلے ہی بازار میں چل رہے تھے آپ والی تھے گمراہ کو سیدھی راہ دکھاتے گمشدہ چیز کا اعلان کرتے کمزوری کی مدد کرتے نیز دوسرے دو کا نداوں اور سبزی فروشوں کے پاس سے گزرتے انھیں قرآن کی یاد دلاتے اور خود یہ آیت پڑھتے : ” تلک الدار الآخرۃ نجعلھا للذین لا یریدون علوا فی الارض ولا فسادا “ یہ آخرت کا ٹھکانا ہے ہم یہ ان لوگوں کو عطاء کریں گے جو دنیا میں برتری اور فساد کے درپے نہیں ہوں گے آپ (رض) فرماتے : یہ آیت ان لوگوں کی شان میں نازل ہوئی ہے جو حکمرانوں میں سے اہل عدل اور اہل تواضع ہوں اور باقی لوگوں میں سے اہل قدرت ہوں۔ (رواہ ابن عساکر)