36544 عن عنترة قال : أتيت عليا يوما فجاء قنبر فقال : يا أمير المؤمنين ! إنك رجل لا تليق شيئا وإن لاهل بيتك في هذا المال نصيبا وقد خبأت لك خبيئة ، قال : وما هي ؟ قال : انطلق فانظر ما هي ؟ قال فأدخله بيتا فيه باسنة مملؤة آنية ذهب وفضة مموهة بالذهب فلما رآها علي قال : ثكلتك أمك ! لقد أردت أن تدخل بيتي نارا عظيمة ، ثم جعل يزنها ويعطي كل عريف بحصته ثم قال : هذا جناي وخياره فيه وكل جان يده إلى فيه ، ولا تغريني وغري غيري (أبو عبيد).
٣٦٥٤٤۔۔۔ عنترہ کی روایت ہے ایک تن میں حضرت علی (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اتنے میں قنبر آگیا اور عرض کیا : اے امیر المومنین آپ مال میں سے اپنا حصہ نہیں لیتے حالانکہ آپ کے گھروں کا اس مال میں حصہ ہے میں نے آپ کے لیے ایک چیز چھپا رکھی رہے فرمایا : وہ کیا ہے ؟ کہا : چلیں اور دیکھ لیں کہ وہ کیا ہے چنانچہ آپ (رض) کو قنبر نے ایک گھر میں داخل کیا اس میں کچھ برتن ہیں جو سونا اور چاندی سے بھرے ہوئے ہیں جب حضرت علی (رض) نے یہ مال دیکھا تو فرمایا : تیری ماں تجھے گم پائے ! تم نے ارادہ کیا ہے کہ میرے گھر میں ایک بڑی آگ داخل کرو۔ پھر آپ (رض) نے سونے چاندی کو تولنا شروع کردیا اور جو بھی آتا اسے حصہ کے مطابق دیتے گئے پھر فرمایا : یہ میرا کام ہے اور یہ مستحق مسلمانوں تک پہنچ گیا ہے اور ہر کام کرنے والے کا ہاتھ اپنے منہ میں ہوتا ہے۔ اے مال : تو مجھے دھوکا مت دے بلکہ میرے علاوہ کسی اور کو دھوکا میں ڈال۔ (رواہ ابو عبید)