hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 36557

.

كنز العمال

36557
Kanz al-Ummal
36547 (مسند علي) عن أبي مطر قال : خرجت من المسجد فإذا رجل ينادي خلفي : ارفع إزارك ، فانه أتقى لربك وأنقى لثوبك ، وخذ من رأسك إن كنت مسلما ، فإذا هو علي ومعه الدرة فانتهى إلى سوق الابل فقال : بيعوا ولا تحلفوا فن اليمين تنفق السلعة وتمحق البركة ، ثم أتى صاحب التمر فإذا خادم تبكي فقال : ما شأنك ؟ قالت : باعني هذا تمرا بدرهم فأبى مولاي أن يقبله ، فقال : خذه وأعطها درهما فانه ليس لها أمر ، فكأنه أبى ، فقلت : ألا تدري من هذا ؟ قال : لا ، قلت : علي أمير المؤمنين ، فصب تمره وأعطاها درهمها وقال : أحب أن ترضى عني يا أمير المؤمنين ! قال : ما أرضاني عنك إذا وفيتهم ، ثم مر مجتازا بأصحاب التمر فقال : أطعموا المسكين يربو كسبكم ، ثم مر مجتازا حتى انتهى إلى أصحاب السمك فقال : لا يباع في سوقنا طافي ، ثم أتى دار بزاز وهي سوق الكرابيس فقال : يا شيخ ! أحسن بيعي في قميص بثلاثة دراهم ، فلما عرفه لم يشتر منه شيئا ، ثم أتى آخر فلما عرفه لم يشتر منه شيئا ، ثم أتى غلاما حدثا فاشترى منه قميصا بثلاثة دراهم ولبسه ما بين الرسغين إلى الكعبين فجاء صاحب الثوب فقيل له : إن ابنك باع من أمير المؤمنين قميصا بثلاثة دراهم ، قال : فهلا أخذت منه درهمين ؟ فأخذ الدرهم ثم جاء به إلى علي فقال : أمسك هذا الدرهم ، قال : ما شأنه ؟ قال : كان قميصنا ثمن درهمين باعك ابني بثلاثة دراهم ، قال : باعني برضاي وأخذت رضاه (ابن راهويه ، حم في الزهد وعبد بن حميد ، ع ، ق ، كر وضعف).
٣٦٥٤٧۔۔۔ ” مسند علی “ ابو سطر کی روایت ہے ایک مرتبہ میں مسجد سے باہر نکلا اچانک مجھے پیچھے سے کوئی آواز دے رہا ہے اپنی شلوار اوپر کرو چونکہ یہ چیز اللہ تعالیٰ کا ڈر دل میں زیادہ ڈالتی ہے اور اس سے تمہارے کپڑے صاف ستھرے رہیں گے اگر تم مسلمان ہو تو اپنے بال کٹوا دو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ علی (رض) ہیں اور آپ کے پاس ڈرہ ہے آپ چلتے چلتے بازار میں جا پہنچے آپ (رض) نے فرمایا : بیچو مگر قسمیں مت کھاؤ چونکہ قسم سے مال تو بک جاتا ہے لیکن برکت جاتی رہتی ہے پھر آپ (رض) کھجور فروش کے پاس آئے کیا دیکھتے ہیں کہ ایک خادمہ کھڑی رو رہی ہے آپ (رض) نے اس سے رونے کی وجہ پوچھی : وہ بولی : اس شخص نے مجھے ایک درہم کی کھجوریں فروخت کی ہیں لیکن میرے آقا نے قبول کرنے سے انکار کردیا ہے آپ (رض) نے فرمایا : یہ لو اور اسے درہم واپس کرو چونکہ معاملہ اس کے اختیار میں نہیں ہے۔ اس شخص نے انکار کردیا میں نے کہا : تم جانتے ہو یہ کون ہے کہا : نہیں میں نے کہا : یہ امیر المومنین حضرت علی (رض) ہیں دوکاندار نے کھجوریں انڈیل دیں اور درہم خادمہ کو واپس کردیا اور کہنے لگا : امیر المومنین مجھے پسند ہے کہ آپ مجھ سے راضی ہوجائیں تو آپ (رض) نے فرمایا : مسکینوں کو کھلاؤ تمہاری کمائی بڑھے گی پھر آپ چل پڑے۔ حتی کہ مچھلی فروشوں کے پاس جا پہنچے اور فرمایا : ہمارے بازاروں میں طافی مچھلی۔ (جو مردہ ہو کر پانی میں الٹی تیرنے لگے) نہ بیچی جائے پھر آپ (رض) کپڑا فروشوں کے بازار میں آئے اور فرمایا : اسے شیخ مجھے ایک اچھی سی قمیص قین دراہم میں دے دو جب آپ نے اسے پہچان لیا آپ نے اس سے کچھ نہ خریدا پھر آپ (رض) ایک دوسرے شخص کے پاس آئے اور جب اسے پہچان لیا تو اس سے بھی کچھ نہ خریدا پھر آپ ایک نوجوان لڑکے کے پاس آئے آپ نے اس سے تین دراہم میں قمیص خریدلی آپ نے قمیص پہنی اس کی آستیں کلائیوں تک پہنچتی تھیں اتنے میں کپڑے کا مالک آگیا اس سے کہا گیا تمہارے بیٹے نے امیر المومنین کو تین دراہم میں قمیص بیچی ہے مالک نے لڑکے سے کہا : تم نے دو درہم میں قمیص کیوں نہیں بیچی مالک نے ایک درہم لیا اور حضرت علی (رض) کے پا سآ گیا اور کہا : یہ درہم لے لیں آپ (رض) نے فرمایا : کیا وجہ ہے ؟ مالک نے کہا : ہماری اس قمیص کی قیمت دو درہم ہے جب کہ میرے بیٹے نے تین درہم لیے ہیں : آپ (رض) نے فرمایا : لڑکے نے مجھے رضا مندی سے قمیص بیچی ہے اور میں نے اس کی رضا مندی حاصل کی ہے۔ (رواہ ابن راھویہ واحمد بن حنبل فی الزھد وعباس حمید وابو یعلی والبیہقی وابن عساکر و ضعف)