36553- عن مهاجر بن عامري قال: كتب علي بن أبي طالب عهدا لبعض أصحابه على بلد فيه: أما بعد فلا تطولن حجابك على رعيتك فإن احتجاب الولاة عن الرعية شعبة من الضيق وقلة علم من الأمور، والاحتجاب يقطع عنهم علم ما احتجبوا دونه فيصغر عندهم الكبير ويعظم الصغير ويقبح الحسن ويحسن القبيح ويشاب الحق بالباطل، إنما الوالي بشر لا يعرف ما توارى عنه الناس به من الأمور، وليست على القول سمات يعرف بها صروف الصدق من الكذب، فيحصن من الإدخال في الحقوق بلين الحجاب، فإنما أنت أحد رجلين: إما امرؤ سخت نفسك بالبذل في الحق ففيم احتجابك من حق تعطيه أو خلق كريم تسد به، وإما مبتلى بالمنع، فما أسرع كف الناس عن مسألتك إذا يئسوا عن ذلك مع أن أكثر حاجات الناس إليك لا مؤنة فيه عليك من شكاة مظلمة أو طلب إنصاف، فانتفع بما وصفت لك واقتصر على حظك ورشدك إن شاء الله."الدينوري، كر".
٣٦٥٥٣۔۔۔ مہاجرین عامری کی روایت ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) نے اپنے ایک گورنر کو وصیت نامہ لکھا جس کا مضمون یہ ہے : امابعد ! رعیت سے زیادہ عرصہ روپوش مت رہو چونکہ حکمرانوں کا رعیت سے روپوش رہنا تنگی اور امور سے ناواقفیت کا ایک حصہ ہے۔ روپوشی لوگوں کے احوال سے واقفیت کو ختم کردیتی ہے جس کی وجہ سے لوگوں کے ہاں بڑا آدمی کمتر ہوجاتا ہے اور کمتر بڑا ہوجاتا ہے اچھائی برائی بن جاتی ہے اور برائی اچھائی بن جاتی ہے والی انسان ہے جب تک لوگوں کے معاملات اس سے مخفی رہیں وہ معروف نہیں ہوسکتا بات کی ایسی علامات نہیں ہوتیں جن کے ذریعے سچ جھوٹ سے ممتاز ہو سکے لہٰذا لوگوں سے حجاب کرلینا ایک ایسی چیز ہے جو لوگوں کو جائز حقوق ملنے میں آڑے آجاتا ہے۔ تم دو قسم کے آدمیوں میں سے ایک ہو یا تو ایسا شخص ہے کہ حق میں خرچ کرنے پر تیرا نفس سخاوت کرتا ہوں لہٰذا تمہارا حجاب کرنا کسی قسم کے حق سے ہوگا جو تم عطا کرتے ہو یا پھر کسی اچھی عادت کو تم روکنا چاہتے ہو۔ یا تو ایسا شخص ہے جو منع میں مبتلا کردیا گیا ہو لوگوں کا رک جانا تیرے سوال سے کشا جلد ہے جب وہ اس سے مایوس ہوں جب کہ لوگوں کے اکثر ضروری امور تجھ تک منتہی ہوتے ہیں شکایت میں تجھ پر کوئی تاوان نہیں ہے کسی ظلم میں یا طلب انصاف میں، میں نے تم سے جو کچھ بیان کیا ہے اس سے نفع اٹھاؤ اور صرف اپنے حصہ پر اکتفاء کرو اور شدو ہدایت کا دامن ہاتھ سے مت چھوڑو۔ انشاء اللہ ۔ (رواہ الدینوری وابن عساکر)